حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 138
حیات احمد ۱۳۸ جلد پنجم حصہ دوم کر اس کے حضور میں ناصیہ فرسائی کا شرف حاصل کر رہے ہیں کیا یہ اس لئے کہ قہر کی بجلی سے امت محمد یہ کونابود کر ڈالے؟ ظلم مت کرو خدائے پاک کی طرف ایسے گستاخانہ خیالات کو منسوب نہ کرو۔اس نے جو کیا درست کیا۔اسی طرح وہ اپنے بندوں کی صداقت ظاہر کیا کرتا ہے۔یوں اس نے مؤید کو مؤید اور مخذول گروہ کو مخذول کر دکھایا اس لئے کہ جہان پر کھلی حجت ثابت ہو جائے۔جس طرح ۴۰ روزہ ے میں سے باقی رہ گئے تھے اور بیماریوں کی جھپٹ دن بدن زیادہ ہوتی جاتی تھی اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو میعاد یوں ہی مل جاتی اور حضرت موعود کو قلم پکڑنے کی مہلت ہی نہ ملتی فَاطِرُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ عَالِمُ السّرِ وَالْعَلَنُ گواہ اور آگاہ ہے کہ ہم کو بشریت کے ضعف کی وجہ سے بار بارایسا دھڑ کا لگتا تھا کہ کیوں کر اتنا عظیم الشان کام باوجود ان حالتوں کے جو ہم دیکھتے تھے پورا ہوگا۔اپنے حق میں تو ظلم سے جو چاہو سو کہو مگر یہ تو بتاؤ کہ کیا ہمارے لئے بھی یہ نشان نہیں جن کے سامنے یہ سب حالات وقوع میں آئے اور کیا اب بھی ہم حضرت موعود کو اپنے تمام دعووں میں صادق اور مؤید اور منصور مانے پر معذور و مجبور نہیں ہیں؟ مجھے رہ رہ کر جوش آتا ہے اور اللہ تعالی گواہ اور آگاہ ہے کہ دل کی تہہ سے یہ فوارہ جوش مارتا ہے کہ یہ بڑا عظیم الشان معجزہ اس سلسلہ عالیہ کی تائید میں خدائے بزرگ و برتر نے دکھایا ہے۔عوارض اور حالات کو مدنظر رکھا جائے تو اس کی کوئی نظیر نہیں ہر ایک چیز کی عظمت وقت اور حالات موجودہ کی نسبت اور قیاس سے ہوتی ہے۔ایک تحری ہوئی اس کی ایک میعاد مقرر ہوئی۔اُس میں سے بھی پور ایک مہینہ گزر گیا اور دعوی کرنے والے پر موت تک پہنچا دینے والی بیماریاں حملہ پر حملہ کرتی رہی ہیں اور تحدی ایسی خطر ناک کہ اگر اُس میں خطا ہو جائے تو پچھلا برسوں کا ساختہ پر داختہ سب غارت۔سارے دعوے جھوٹے۔سارا تانا بانا درہم برہم۔اس پر خداوند کریم کی ایسی نصرت اور تائید کہ چالیس روز میں سے بھی ۲۰ فروری کو یہ کام پورا کر دیا۔اتنی نفرتیں اور تائید میں یکجا جمع ہو جائیں۔کاتب موجود۔پریس موجود۔سامان اور مواد مطلوب موجود۔اور ان سب لوگوں کی صحت و عافیت اس حد تک برقرار۔یہ نشان ہیں پر ان لوگوں کے لئے جو خدا کو خدا میں دیکھتے ہیں۔ممکن ہے کہ اس کو چہ سے بے خبر نہیں