حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 128 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 128

حیات احمد ۱۲۸ جلد پنجم حصہ دوم جس نے چالیس روز میں اس عظیم الشان کام کو پورا کیا ہے اور نہ مجر داور مخذول اور مفتری بشریت کے سامنے آخری اور ابدی تباہی کا دن آچکا تھا۔ان متواتر بیماریوں اور نا قابل بیان ناتوانی اور بے کسی اور خدا تعالیٰ کی اس نصرت اور تائید نے اور بھی زیادہ حضرت موعود کے صدق اور حقیقت پر مہر کر دی۔کل جمعہ کے دن ۲۲ فروری یہاں قابل دید نظارہ تھا جبکہ قدس کے میدانوں میں جولاں کرنے والا اشہپ قلم آپ کا منزل مقصود پر بعافیت و خیریت پہنچ کر آرام سے کھڑا ہو گیا۔رات کو حضرت مامور آدھی رات سے زیادہ تک کا پیاں اور پھر اسی افراتفری میں جمے ہوئے اور نکالے ہوئے پروف دیکھتے رہے۔مطبع کے کارکن رات بھر کام کرتے رہے اور آج ۲۳ کی صبح کو اعجاز المسیح پورے دوسو صفحوں میں مکمل ہوکر ڈاک کے ذریعہ مختلف مقامات میں بھیجا گیا۔ظہر کی نماز کے وقت جب آپ مسجد میں تشریف لائے آپ کا درخشاں چہرہ جس پر کامیابی اور نصرت حق اور محبوبیت ڈھیروں پھول برسا رہی تھی عشاق کے لئے ایک نورانی مشعل تھا جس کی روشنی میں وہ براہ راست وجہ اللہ کو دیکھتے تھے۔خدا تعالیٰ کی برکتیں اور تائیدیں اور صلوات شامل حال ہوں حضرت موعود کے حرم محترم کے کہ پرسوں انہوں نے ایک فقرہ کہہ کر اپنی فراست حقہ اور خدا بین اور رسالت فہم طبیعت کا کیسا ثبوت دیا۔از بسکہ وہ رات دن مشاہدہ کرتی تھیں اور ان سے زیادہ اور کون مخلوقات میں سے شاہد حال ہوسکتا تھا کہ حضرت مامور علیہ السلام دن رات میں کئی کئی مرتبہ موت تک پہنچ جاتے اور بیسیوں دفعہ لکھتے لکھتے تین تین چار چار لحاف اوڑھ کر لیٹ جاتے اور ہاتھ پیر مردہ بے جان کی طرح ٹھنڈے ہو جاتے پھر اس نادر کام کو کامل مکمل دیکھ کر وہ حضرت سے مخاطب ہو کر کہتی ہیں کہ میری روح شرح صدر سے گواہی دیتی ہے کہ آج وہ الہام ” ایک عزت کا خطاب پورا ہو گیا۔اس سے زیادہ کیا عزت ہے اور انبیاء ومرسلین اور اہل اللہ کی ایسی ہی خدائی رنگ کی عزت ہوا کرتی ہے کہ اس قدر حدی اور دعوے کے ساتھ علماء اور ان کے شہداء کو پکارا گیا اور غیرت اور جوانمردی کا مقتضا تھا کہ وہ اس مرد آزما میدان میں بڑھ بڑھ کر قدم مارتے مگر متصرف عَلَى القُلوب خدا نے ان کی غیر تیں سلب کرلیں اور ان کی