حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 127 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 127

حیات احمد ۱۲۷ جلد پنجم حصہ دوم معائنہ سے دور پڑے ہیں۔میرا دل مجھے یقین دلاتا ہے کہ محبوب و مولیٰ اور رؤف رحیم آقا کی یہ زحمت اور تکلیف جو اس راہ میں اُن پر پڑی ہے اُن کے عاشق خدام کی محبت اور عشق کے لئے مہمیز کا کام دے گی اور یہ اطلاع اور شعور اور احساس ایک آگ ہوگی جو غیر کو، غیر کی تعظیم و تکریم کو غیر کی کسی قسم کی جہد و ریاضت کے خیال اور یقین کو اُن کے دل سے راکھ کر کے نکال ڈالے گی۔میر الیگا نہ لا شریک خدا جس کی عظمت اور جبروت کا تصور ایک صادق کی پیٹھ کی ہڈیاں توڑ دیتا ہے گواہ اور آگاہ ہے کہ میں آپ کی اس محنت اور جانفشانی اور بیماریوں کی شدت کو دیکھ کر بسا اوقات جوش محبت میں سخت رنج اور دکھ سے بھر جاتا اور بھاری صدمہ اپنی جان میں محسوس کرتا اور میرا دل چیخ کر یہ کہتا کہ حقیقی کفارہ اور واقعی قربانی یہ ہے جو ہمارا برگزیدہ شفیع اپنے وجود سے امت محمدیہ کے لئے پیش کر رہا ہے۔ناشکر گزار قوم کیا مکافات دے رہی ہے اور اب بھی اس لانظیر نشان پر کیا کیا نکتہ چینیاں ناعاقبت اندیش بدگمانوں کی طرف سے ہوں گی۔مگر ایک جمیل حسین اور محسن چہرہ ہے جو اس برگزیدہ کے سامنے بیٹھا اور اپنی جاں بخش تجلیات سے ساری مصیبتیں اس پر آسان کر رہا ہے اور اس دل افروز حسن سے ایسے عالم محویت میں یہ عاشق صادق ہے کہ غیر کی نہ تو تحسین کی پرواہ ہے اور نہ نقیح اور توہین کا کچھ خوف ہے۔میں نے بارہا دل میں ایک رنج محسوس کیا وہ جبروت اور عظمت کے دباؤ سے سینہ سے سر نکالتے نکالتے رہ گیا اور کبھی جو کلیجہ منہ تک آیا تو ناز آمیز شکوہ سے اپنے رحیم کریم رب کو کہہ ہی گزرا کہ اے رحیم کریم مولیٰ تیری حکمتوں اور تقدیروں کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگا کر کون کسی راز کو مٹھی میں لا سکتا ہے۔ایک طرف تو تو نے اپنے بندہ پر ایسی ذمہ داریوں کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں اور ایک جہاں کی آنکھوں کا صلح نظر اسے بنا رکھا ہے اور ایک طرف یہ بیماریاں اور رنج ہیں کہ یقیناً ایک پہاڑ پر پڑیں تو اُسے چور چور کر دیں۔آخر اس حقیقت کی تجلی اور انکشاف نے ڈھارس باندھ دی کہ یہ ہی اور یہی درحقیقت عظیم الشان معجزہ ہے اگر چہ کوئی خارجی آدمی بدگمانی اور تیرہ فطرتی سے یقین نہ کرے پر آستانہ قدس کا شرف ملا زمت رکھنے والے اس رنگ کو اپنے ایمانوں کے لئے نئی اور عجیب یا قوتی سمجھتے ہیں اس لئے کہ وہ یقین سے بھر گئے ہیں کہ یہ خدائے قدوس قادر کا ہاتھ ہے