حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 102
حیات احمد ۱۰۲ جلد پنجم حصہ دوم ہلال نے بھی جو عیسائی پر چہ ہے اعجاز المسیح کی بلاغت فصاحت کی تعریف کی اور وہ پرچہ بھی قاہرہ سے نکلتا ہے۔اب ایک طرف تو دو گواہ ہیں اور ایک طرف بیچارہ منارا کیلا۔اور ایڈیٹر منار نے باوجود اس قدر بد گوئی کے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ” میں اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ اس کتاب کی مانند کوئی اور کتاب اہل عرب بھی نہیں لکھ سکتا۔اگر ہم چاہیں تو لکھ دیں، لیکن یہ قول اس کا محض ایک فضول بات ہے اور یہ اسی رنگ کا قول ہے جو کفار قرآن شریف کی نسبت کہتے تھے کہ لَوْ نَشَاءُ لَقَلْنَا مِثْلَ هَذَا ! پھر ہم پوچھتے ہیں کہ اگر وہ کتاب فصیح نہیں تو پھر تمہارے اس قول کے کیا معنے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس کی مثل چند روز میں لکھ دیں کیا تم بھی غلط کتاب کے مقابل پر غلط لکھو گے؟ غرض جس پر چہ کی تحریر پر اتنی خوشی کی گئی ہے اس کا یہ حال ہے کہ اسی ملک کے اہل زبان وہی پیشہ رکھنے والے اس کو جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔اور جہاد کی وجہ سے بھی اس کا اشتعال بے معنی ہے کیونکہ یہ مسئلہ اب بہت صاف ہو گیا ہے اور وہ زمانہ گزرتا جاتا ہے جب کہ نادان ملا بہشت کی گل نعمتیں جہاد پر ہی موقوف رکھتے تھے۔اس جگہ بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے اُسی گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں۔ہم نے قبول کیا کہ ہماری اردو کی کتابیں جو ہندوستان میں شائع ہوئیں ان کے دیکھنے سے گورنمنٹ عالیہ کو یہ خیال گزرا ہو گا کہ ہماری خوشامد کے لئے ایسی تحریریں لکھی گئی ہیں کیونکہ انسان عالم الغیب نہیں لیکن یہ دانشمند گورنمنٹ ادنی توجہ سے سمجھ سکتی ہے کہ عرب کے ملکوں میں جو ہم نے ایسی کتابیں بھیجیں جن میں الانفال : ٣٢