حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 101
حیات احمد 1+1 جلد پنجم حصہ دوم ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنے قول اور فعل سے ہر طرح اس گورنمنٹ برطانیہ کی نصرت کریں کیونکہ ہم اس گورنمنٹ کے مبارک قدم سے پہلے ایک جلتے ہوئے تنور میں تھے۔یہی گورنمنٹ ہے جس نے اس تنور سے ہمیں باہر نکالا۔غرض اسی خیال سے جو میرے دل میں مستحکم جما ہوا ہے اعجاز المسیح میں بھی یعنی اس کے صفحہ ۱۵۲ میں جہاد کی مخالفت اور گورنمنٹ کی اطاعت کے بارے میں ھمد ومد سے لکھا گیا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسی تحریر سے صاحب جریدہ منارا اپنے تعصب کی وجہ سے جل گیا اور اس نے آنکھیں بند کر لیں اور سخت گوئی اور گالیوں پر آ گیا اور منار میں بہت تحقیر اور توہین سے مجھے یاد کیا اور وہ پرچہ جس میں میری بدگوئی تھی کسی تقریب سے پنجاب میں پہنچ گیا۔پنجاب کے پر حسد ملا تو آگے ہی مجھ سے ناراض تھے اور پیر گولڑی کی کمر ٹوٹ چکی تھی اس لئے منار کی وہ دو چار سطریں مرتے کے لئے ایک سہارا ہو گئیں۔تب ان لوگوں نے اپنی طرف سے اور بھی ٹون مرچ لگا کر اور ان چند سطروں کا اردو میں ترجمہ کر کے وہ مضمون پر چہ اخبار چودھویں صدی میں جو راولپنڈی سے نکلتا ہے چھپوا دیا اور جا بجا بغلیں بجانے لگے کہ دیکھو اہل زبان نے اور پھر منار کے ایڈیٹر جیسے ادیب نے ان کی عربی کی کیسی خبر لی۔بے وقوفوں کو معلوم نہ ہوا کہ یہ تو سارا جہاد کی مخالفت کا مضمون پڑھ کر جوش نکالا گیا ہے۔ور نہ اسی قاہرہ میں پر چہ مناظر کے ایڈیٹر نے جو ایک نامی ایڈیٹر ہے جس کی تعریف منار بھی کرتا ہے اپنے جریدہ میں صاف طور پر اقرار کر دیا ہے کہ کتاب اعجاز المسیح در حقیقت فصاحت بلاغت میں بے مثل کتاب ہے اور صاف گواہی دے دی ہے کہ اس کے بنانے پر دوسرے مولوی ہرگز قادر نہیں ہوں گے۔ان مخالفوں کو چاہیے کہ جریدہ مناظر کو طلب کر کے ذرہ آنکھیں کھول کر پڑھیں اور ہمیں بتائیں کہ اگر ایڈ یٹر منار اہلِ زبان ہے تو کیا ایڈیٹر ناظر اہل زبان نہیں ہے؟ بلکہ مناظر نے صاف طور پر بیان کر دیا ہے که اعجاز امسیح کی فصاحت بلاغت در حقیقت معجزہ کی حد تک پہنچ گئی ہے اور پھر ایڈیٹر