حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 72
حیات احمد ۷۲ جلد پنجم حصہ اول ہے۔چونکہ اس کتاب میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو کوئی مسلمان سن کر رنج سے رک نہیں سکتا اس لئے لاہور کی انجمن حمایت اسلام نے اس بارے میں حضور گورنمنٹ میں میموریل روانہ کیا تا گورنمنٹ ایسی تحریر کی نسبت جس طرح مناسب سمجھے کارروائی کرے اور جس طرح چاہے کوئی تدبیر امن عمل میں لائے۔مگر میں مع اپنی جماعت کثیر اور مع دیگر معز زمہمانوں کے اس میموریل کا سخت مخالف ہوں اور ہم سب لوگ اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ کیوں اس انجمن کے ممبروں نے محض شتاب کاری سے یہ کارروائی کی اگر چہ یہ سچ ہے کہ کتاب أُمَّهَاتُ المؤمنين کے مؤلف نے نہایت دل دکھانے والے الفاظ سے کام لیا ہے اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ باوجود ایسی سختی اور بدگوئی کے اپنے اعتراضات میں اسلام کی معتبر کتابوں کا حوالہ بھی نہیں دے سکا مگر ہمیں ہرگز نہیں چاہیے کہ بجائے اس کے کہ ایک خطا کارکونرمی اور آہستگی سے سمجھا دیں اور معقولیت کے ساتھ اس کتاب کا جواب لکھیں یہ حیلہ سوچیں کہ گورنمنٹ اس کتاب کو شائع ہونے سے روک لے تا اس طرح پر ہم فتح پالیں کیوں کہ یہ فتح واقعی فتح نہیں ہے بلکہ ایسے حیلوں کی طرف دوڑ نا ہمارے بجز اور درماندگی کی نشانی ہوگی اور ایک طور سے ہم جبر سے منہ بند کرنے والے ٹھہریں گے۔اور گورنمنٹ اس کتاب کو جلا دے، تلف کرے کچھ کرے مگر ہم ہمیشہ کے لئے اس الزام کے نیچے آجائیں گے کہ عاجز آکر گورنمنٹ کی حکومت سے چارہ جوئی چاہی۔اور وہ کام کیا جو مغلوب الغضب اور جواب سے عاجز آجانے والے لوگ کیا کرتے ہیں۔ہاں جواب دینے کے بعد ہم ادب کے ساتھ اپنی گورنمنٹ میں التماس کر سکتے ہیں کہ ہر ایک فریق اس پیرایہ کو جو حال میں اختیار کیا گیا ہے ترک کر کے تہذیب اور ادب اور نرمی سے باہر حاشیہ۔انجمن کا ایسے وقت میں میموریل بھیجنا جبکہ ہزار کا پی امہات المومنین کی مسلمانوں میں مفت تقسیم کی گئی اور خدا جانے کئی ہزار اور قوموں میں شائع کی گئی بیہودہ حرکت ہے کیونکہ اشاعت جس کا بند کرنا مقصود تھا کامل طور پر ہو چکی ہے۔منہ