حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 61
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول نادرشاہ کے قتل دہلی کے واقعہ کی مثال دے کر خود ہی ذلیل ہو گیا ہے۔گوہم جانتے ہیں کہ اس نے اس خیال اور نظر سے یہ شعر سے دیدہ عبرت کشاد قدرت حق را بہ ہیں شامت اعمال ما صورت نادر گرفت نہیں لکھا بلکہ اس خیال سے لکھا ہے کہ یہ خیال کہ عذاب الہی بندوں کی شامت اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے سید نا حضرت مرزا صاحب ہی کا نہیں اور استہزاء اور بخیال خویش تاریخی ثبوت پیش کرنے کی نیت سے لکھا ہے مگر اچھا ہوا کہ یہ واقعہ ہی اُس کو ملزم کرتا ہے اس واقعہ قتل عام سے صاف معلوم ہو گیا ہے کہ جب تک لوگوں نے اپنے فعل شنیعہ یعنی بدظنی اور بدسلوکی سے تو بہ کرنے اور نادر شاہ کی زندگی کے قائل ہو کر شمشیر گلے میں ڈالنے سے رجوع نہ ہوئے قتل کا ہاتھ بند نہ ہوا۔دیکھو جب ایک دنیا دار بادشاہ رجوع سے چھوڑ سکتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کو وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے۔اب ہم سمجھتے ہیں کہ پیسہ اخبار کی تمام باتوں کا جواب آچکا اس لیے اس مضمون کو ختم کر دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو سوچنے والا دل بخشے اور ہم کو بھی عمل حسنہ کی توفیق دے تا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم اس بات کو معلوم کر کے بھی اس پر عامل نہ ہوں اور زیادہ جواب دہ اور مور د عذاب ہو جائیں رَبَّنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے اِلهَ العَالَمِین ہم کو تو فیق عمل نصیب کر ، اور ایک نیا دل عنایت کر جو تیری عظمت کو قبول کرے، اور تیری طرف تیری ہی طرف جملہ آفات و بلیات سے بچنے کے لئے بھاگے۔آمین بالآخر ہم چاہتے ہیں کہ اتنا اور کہہ دیں کہ سید نا مرزا صاحب نے جن باتوں کی ہدایت کی ہے ان کا خلاصہ مندرجہ ذیل امر ہیں۔اول ہماری گورنمنٹ نے جو تدابیر حفظ ما تقدم یا تدابیر انسداد کی صورت مرض طاعون سے بچنے کے لئے کی ہیں وہ فطرتی اور انسانی خواہش کے موافق ہیں جن سے