حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 60 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 60

حیات احمد ۶۰ جلد پنجم حصہ اول ہے۔دو علاج جو سیدنا مسیح الزمان نے روحانی قواعد کے راز سے استفادہ کر کے ایک تو ظاہری علاج بتلایا ہے اور دوسرا روحانی۔ہم کو افسوس ہے کہ ایک مٹیریلسٹ اور اسباب پرست دہر یہ بھی اس کو متناقض نہیں کہہ سکتا۔ایک بیمار کے لئے دوا اور غذا دونوں باتوں کا لحاظ ضروری ہوتا ہے یا دوا اور پر ہیز ، غرض کہ ایک عام مریض کے لئے بھی دوہی سلسلہ ہوتے ہیں اور دنیا میں کوئی کام بھی نہیں جو دو سلسلوں سے وابستہ نہ ہو ہم تفصیل کر دیتے اگر گنجائش اور طوالت مانع نہ ہوتی ، بہر حال جیسے ایک مریض کے لئے دوا دفع مرض کے لئے دی جاتی ہے اور مناسب غذا (جس کے اجزا ایک طرف تو دوا کی خاصیت رکھتے ہوں۔دوسری طرف بیماری کی زائل کردہ قوت کو نشو ونما دینے والے ہوں ) طاقت کے پیدا ہونے کے لئے دی جاتی ہے اسی طرح نظام روحانی میں بھی یہ سلسلہ یوں ہی چلتا ہے۔خارش پیدا کرنے والی دوا جو بتلائی گئی ہے۔وہ بطور پر ہیز یا غذا کے ہے اور اصل علاج وہ تو بہ اور استغفار ہے جس کی طرف سید نا مرزا صاحب نے (فَدَاهُ رُوحِی ) زور دیا ہے۔اور عام خلق اللہ کو کثیر التعداد اشتہار چھاپ کر اطلاع اور تعلیم دی ہے۔مبارک ہیں وہ لوگ اور سعادت مند ہیں وہ روحیں جو دنیا میں آئے ہوئے نذیر کے باتوں پر کان رکھتیں اور نہ صرف اُسے سن لیتیں بلکہ اس پر عمل کرنے کے لئے مستعد ہو کر اُس دردناک عذاب سے بچنے کا سامان پیدا کر لیتی ہیں جو دنیا کو ہلاک کر دیتا ہے اور شریروں کو بھسم کر جاتا ہے۔قابل افسوس اور واجب الرحم ہیں وہ نا عاقبت اندیش جو استہزا اور ٹھٹھے سے ان کو دیکھتے اور تمسخر سے ان پر سے گزر جاتے ہیں اور اپنی ہلاکت کا سامان اپنے ہاتھوں پیدا کر لیتے اور اوروں کے لئے موجب عبرت ہو جاتے ہیں۔رَبَّنَا وَ لَا تُشْمِتْ بِنَا الأغدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ لِلظَّالِمِينَ ہم کو اس امر کے بیان کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کہ حضرت اقدس کا یہ علاج کہاں تک مفید ہے پیسہ اخبار خود ہی معترف ہے کہ شامت اعمال کا نتیجہ عذاب ہوتا ہے۔اور وہ ناپاک تبدیلی ہی سے دور ہوسکتا ہے چنانچہ