حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 51
حیات احمد ۵۱ جلد پنجم حصہ اول المختصر۔یہ اشتہار جیسا کہ ابھی ذکر ہوا اخبار نویسوں کے پاس گیا ہے۔اور لاہور کے روزانہ پیسہ اخبار میں اس کا کچھ حصہ کسی قدر تحریف کے ساتھ شائع ہوا ہے۔جس پر ایڈیٹر صاحب نے اپنا حاشیہ بھی چڑھا دیا ہے۔ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایڈیٹر صاحب کو اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت ہی کیا آپڑی تھی۔کیا اس اشتہار میں کوئی ایک بات بھی ایسی تھی جو معقول اور قابل تسلیم نہ ہو۔بقول اس کے الہام اور پیشگوئی کے حصہ کے سوا باقی سب باتیں معقول ہیں بلکہ بہت معقول ہیں۔اور ان کو قیمتی مشورہ بتلایا گیا ہے۔ہم کہتے ہیں تھوڑی دیر کے لئے الہام اور پیشگوئی کے لفظوں کو چھوڑ کر جو باتیں ان کے ضمن میں سید نا مرزا صاحب نے بیان فرمائی ہیں کیا وہ واجب التسلیم نہیں؟ ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ پیسہ اخبار نے اُن کے معقول، مؤثر واجب التسلیم ہونے سے کہیں انکار نہیں کیا۔البتہ اس کو چڑ ہے تو الہام اور پیشگوئی کی ہے۔مگر پیسہ اخبار جو سعدی علیہ الرحمہ کے اقوال کو یہاں تک پسند کرتا ہے کہ اس کے اخبارا اور ایڈیٹوریل میز کے سامنے موٹو ز بھی اس کے ہی چیدہ اقوال ہیں اور نہیں تو بے مرد باید که گیرد اندر گوش گر نوشت است پند بر دیوار پر ہی عمل کر لیتا اور اپنے ناظرین کو اس برکت سے حصہ لینے کے لئے آمادہ کرتا اور کم از کم اس اشتہار پر خود عمل کر کے اور اور وں سے کرا کر آزما تو لیتا۔پھر کچھ لکھنے کی جرات کرتا۔بہر حال یہ دانشمندی اور زیر کی نہیں کہ خواہ نخواہ مخالفت کا قلم اٹھایا جا وے ہاں اگر اس سے حصول امتیاز غرض ہو تو یہ امر دیگر ہے۔پیسہ اخبار کے اس آرٹیکل کا کپ لباب اور خلاصہ مندرجہ ذیل امر ہیں۔او لا طاعون باوجود انسداد کی تدابیر کے بڑھتی جاتی ہے اس سے اس کی ترقی کا اندیشہ قدرتی امر ہے۔ثانیا سید نا مرزا صاحب کی رائے دربارہ ترقی و باء کوئی الہامی ترجمہ۔آدمی کو چاہیے کہ وہ متنبہ ہواور نصیحت پکڑے اگر چہ وہ نصیحت دیوار پر ہی کیوں دیکھی ہو۔