حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 50 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 50

حیات احمد جلد پنجم حصہ اول مقامات میں صد ہا خطوط توبہ و استغفار اور خشوع و خضوع سے دعائیں مانگنے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی تاکید پر مشتمل لکھے اور خود توجہ کرنی شروع کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بذریعہ رویا ء صادقہ اس وبا کے متعلق چند باتیں ظاہر کر دیں جو آپ نے اس اشتہار میں جو 4 فروری ۱۸۹۸ء کو طاعون کے عنوان سے بکثرت چھپوا کر پنجاب و ہندوستان کے تمام بڑے بڑے شہروں اور مشہور آدمیوں میں بھیج کر تقسیم کیا اور اس طرح پر اعلام الہی سے لوگوں کو متنبہ کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوئے چنانچہ اسی اشتہار کے خاتمہ کے اشتہار میں سے دوشعر ہمارے اس آرٹیکل کے بھی زیب عنوان ہیں۔یہ اشتہار جیسا کہ سید نا مرزا صاحب کا عام دستور ہے اخبار والوں کے پاس بھی بھیجا گیا۔اصل غرض اس اشتہار کی ان کے پاس بھیجنے سے یہ تھی کہ اخبار نویس بھی جو اپنے آپ کو زبان خلق سمجھتے ہیں اور ملکی ریفارمیشن کے لمبے چوڑے دعوے کرتے اور بھلائی عام کی صدائیں لگاتے ہیں اس کو اپنے اخبارات میں شائع کر کے ایک ہمدرد ملک وقوم کی دلسوز باتوں سے آگاہ کر دیں۔ہم ابھی نہیں کہہ سکتے کہ کتنے اخبار نویس اس کے اصل مطلب کو پورا کریں گے مگر تا ہم افسوس اور سخت شاک سے کہتے ہیں کہ ہمارے اکثر معاصرین نے وباء طاعون کے متعلق کچھ بھی فائدہ اس پبلک کو نہیں پہنچایا جس کے ریپریزنٹیٹو اور ایڈوکیٹ وہ کہلاتے ہیں۔اور ہم کو یہ کہنے میں بھی تامل ہے کہ گورنمنٹ کے لئے بھی وہ اس معاملہ طاعون میں بچے مشیر ثابت ہوئے ہیں بلکہ ان کی رفتار اور دوڑ دھوپ کی حد قانون طاعون پر ہی جرح قدح رہی ہے۔کہیں چھوت چھات پر لمبے چوڑے مباحثہ اور مذہبی دست اندازی کا جامہ پہنا کر دکھایا گیا اور کہیں جبر وا کراہ اور بے حرمتی کے ڈراؤنے لباس پہنائے گئے۔الغرض جہاں تک ہم کو غور کا موقع ملا ہے ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اُن مضامین سے جو طاعون کے متعلق ہمارے معاصرین نے لکھے کوئی معتد بہ فائدہ پہنچا ہو۔