حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 46
حیات احمد ۴۶ جلد پنجم حصہ اوّل اور دینی امور میں اور دین کی ہمدردی میں سخت لاپر واہ پائے جاتے ہیں۔اب چونکہ اس الہام سے جو ابھی میں نے لکھا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقدیر معلق ہے اور تو بہ اور استغفار اور نیک عملوں اور ترک معصیت اور صدقات و خیرات اور پاک تبدیلی سے دور ہوسکتی ہے لہذا تمام بندگانِ خدا کو اطلاع دی جاتی ہے کہ سچے دل سے نیک چلنی اختیار کریں اور بھلائی میں مشغول ہوں اور ظلم اور بدکاری کے تمام طریقوں کو چھوڑ دیں۔مسلمانوں کو چاہیے کہ بچے دل سے خدا تعالیٰ کے احکام بجالا ویں نماز کے پابند ہوں۔ہر ایک فسق و فجور سے پر ہیز کریں تو بہ کریں اور نیک بختی اور خدا ترسی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوں۔غریبوں اور ہمسائیوں اور یتیموں اور بیواؤں اور مسافروں اور در ماندوں کے ساتھ نیک سلوک کریں اور صدقہ و خیرات دیں اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں اور نماز میں اس بلا سے محفوظ رہنے کے لئے رو رو کر دعا کریں پچھلی رات اُٹھیں اور نماز میں دعائیں کریں۔غرض ہر قسم کے نیک کام بجالائیں اور ہر قسم کے ظلم سے بچیں اور اُس خدا سے ڈریں جو اپنے غضب سے ایک دم میں ہی دنیا کو ہلاک کر سکتا ہے میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ یہ تقدیر ایسی ہے کہ جو دعا اور صدقات اور خیرات اور اعمال صالحہ اور تو بہ دونوح سے مل سکتی ہے۔اس لئے میری ہمدردی نے تقاضا کیا کہ میں عام لوگوں کو اس سے اطلاع دوں۔یہ بھی مناسب ہے کہ جو کچھ اس بارے میں ہدایتیں شائع ہوئی ہیں خواہ نخواہ ان کو بدظنی سے نہ دیکھیں بلکہ گورنمنٹ کو اس کاروبار میں مدد دیں اور اس کے شکر گزار ہوں۔کیوں کہ بیچ یہی ہے کہ یہ تمام ہدایتیں محض رعایا کے فائدہ کے لئے تجویز ہوئی ہیں۔اور ایک قسم کی مدد یہ بھی ہے کہ نیک چلنی اور نیک بختی اختیار کر کے اس بلا کے دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں تا یہ بلارک جائے یا اس حد تک نہ پہنچے کہ اس ملک کو فنا کر دیوے۔یا درکھو کہ سخت خطرہ کے دن ہیں اور بلا دروازہ پر ہے۔نیکی اختیار کرو اور نیک کام بجالاؤ۔خدا تعالیٰ بہت حلیم ہے لیکن اس کا غضب بھی کھا جانے والی آگ ہے۔اور نیک کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔