حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 42
حیات احمد ۴۲ جلد پنجم حصہ اول بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ط نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ لا امون ــــون اس مرض نے جس قدر بمبئی اور دوسرے شہروں اور دیہات پر حملے کئے اور کر رہی ہے اُن کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔دو سال کے عرصہ میں ہزاروں بچے اس مرض سے یتیم ہو گئے اور ہزارہا گھر ویران ہو گئے۔دوست اپنے دوستوں سے اور عزیز اپنے عزیزوں سے ہمیشہ کے لئے جدا کئے گئے اور ابھی انتہا نہیں۔کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ مُحسنہ نے کمال ہمدردی سے تدبیریں کیں اور اپنی رعایا پر نظر شفقت کر کے لکھو کہا روپیہ کا خرچ اپنے ذمہ ڈال لیا اور قواعد طبیہ کے لحاظ سے جہاں تک ممکن تھا ہدایتیں شائع کیں۔مگر اس مرض مہلک سے اب تک بکلی امن حاصل نہیں ہوا بلکہ بمبئی میں ترقی پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ ملک پنجاب بھی خطرہ میں ہے۔ہر ایک کو چاہیے کہ اس وقت اپنی اپنی سمجھ اور بصیرت کے موافق نوع انسان کی ہمدردی میں مشغول ہو کیونکہ وہ شخص انسان نہیں جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔اور یہ امر بھی نہایت ضروری ہے کہ گورنمنٹ کی تدبیروں اور ہدایتوں کو بدگمانی کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔غور سے معلوم ہوگا کہ اس بارے میں گورنمنٹ کی تمام ہدایتیں نہایت احسن تدبیر پر بنی ہیں گو ممکن ہے کہ آئندہ اس سے بھی بہتر تدابیر پیدا ہوں مگر ابھی نہ ہمارے ہاتھ میں نہ گورنمنٹ کے ہاتھ میں ڈاکٹری اصول کے لحاظ سے کوئی ایسی تدبیر ہے کہ جو شائع کردہ تدابیر سے عمدہ اور بہتر ہو۔بعض اخبار والوں نے گورنمنٹ کی تدابیر پر بہت کچھ جرح کی مگر سوال تو یہ ہے کہ ان تدابیر سے بہتر کون سی تدبیر پیش کی۔بے شک اس ملک کے شرفاء اور پردہ داروں پر یہ امر بہت کچھ گراں ہوگا کہ جس گھر میں بلاء طاعون نازل ہو تو گو ایسا مریض کوئی پردہ دار جوان عورت ہی ہو تب بھی فی الفور وہ گھر والوں سے الگ کر کے ایک علیحدہ ہوادار مکان الفرقان: ۷۸