حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 477
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول مگر بھائیوں کی محبت اور خاطر داری اور عدم یقین بحیات نے مجبور کیا کہ آئندہ پراسے نہ اٹھارکھوں۔برادران کل عجیب اور غیر معمولی روز قادیان میں تھا۔ہمارے ہمسائے یوں تو جو عنایتیں اور کرم ہمارے حال پر سدا مبذول فرماتے ہیں وہ کچھ کم یادگار اور شکریہ کے قابل نہیں مگر کل ان کی انتقامی قوت اور سبھی جوش نے ایک نئی اور غیر مترقب راہ نکالی۔ہماری مسجد کو آنے والی اور شارع عام گلی کو کچی اینٹوں سے باٹ دیا اور اس راہ میں کانٹے بچھانے والے پہلوان کے نقش قدم کی پوری پیروی کی۔اب ہمارے مہمان گاؤں کے گرد چکر لگا کر اور بڑا پھیر کھا کر مسجد مبارک میں آتے ہیں۔حضرت اقدس کو کل معمولاً دردسر تھا اور ہم نے بھی عادتاً یقین کر لیا تھا کہ تحریک تو ہو ہی گئی ہے اب خدا کا کلام نازل ہوگا۔ظہر کے وقت آپ مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا ” سر درد بہت ہے دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھ لی جائیں۔نماز پڑھ کر اندر تشریف لے گئے اور سلسلہ الہام شروع ہوا اور مغرب تک تار بندھا رہا۔مغرب کو تشریف لائے اور الہام اور کلام الہی پر بہت دیر تک گفتگو کرتے رہے کہ کس طرح خدا کا کلام نازل ہوتا ہے اور ہم کو اس پر کیسا یقین ہوتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے الفاظ ہیں اگر چہ دوسرے لوگ اس کی کیفیت نہ سمجھ سکیں اور پھر ان الہاموں کی قافیہ بندی پر تقریر کرتے رہے اور فرمایا قرآن کی عظمت اس سے سمجھ میں آتی ہے اور اس کی عبارت کا مقفی اور مسبح ہونا اور اس کی خوبی اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔الحکم مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ء صفحه ۹ کالم۲ ۳۰) الہامات جو اس موقعہ پر ہوئے اوپر درج ہو چکے ہیں ان کا شان نزول اور کاتبان وحی کا ذکر بھی حضرت اقدس ہی کے الفاظ میں آچکا ہے۔جماعت ان الہامات کو سورۃ الرحی کہا کرتی تھی اور اسے یقین کامل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے فرمائے ہیں وہ پورے ہوں گے۔حضرت اقدس کا یہ طریق عمل رہا کہ آپ جماعت کو جوابی حملہ کا موقعہ بھی نہ دیتے تھے انتہائی نرمی اور خاکساری کے ساتھ صبر کی تعلیم دیتے تھے اور اس پر دشمنوں کی شرارتیں بڑھتی رہتی تھیں