حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 476 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 476

حیات احمد جلد پنجم حصہ اول حضرت اقدس اور جماعت احمدیہ محاصرہ میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے ابنائے ہم میں مرزا امام الدین ایک خطرناک دشمن تھا وہ ابتدا ہی سے حضرت اقدس کا مخالف تھا۔اس کے دوسرے دو بھائیوں میں سے مرزا کمال الدین تو فقیر ہو چکا تھا اور اسے جدی جائداد سے کچھ تعلق نہ تھا اور درویش منش ہونے کی وجہ سے حضرت اقدس کا ادب کرتا تھا۔تیسرا بھائی مرزا نظام الدین ہے چونکہ اولا دنر ینہ رکھتا تھا اس لئے وہ مرزا امام الدین کے خوف سے کہ وہ جائداد تلف نہ کر دے اس کی ہاں میں ہاں مجبوراً ملاتا تھا۔مرزا امام الدین کی مخالفت کا ہر پہلو شرارت اور فتنہ پردازی لئے ہوئے ہوتا تھا۔پنڈت لیکھرام کو اسی نے قادیان بلایا تھا اور کچھ دن آریہ سماج میں بھی داخل ہوا۔غرض وہ نت نیا منصوبہ دکھ دینے کا سوچتا تھا اور جب جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کرنے لگی اور خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق لوگ دور دور سے آنے لگے تو مرزا امام الدین کے غصہ اور حسد کی انتہا نہ رہی اور اُس نے ایک خطرناک منصوبہ کیا کہ مسجد اور ا لدار کے راستہ میں ایک دیور ار کھڑی کر دی اور اس طرح پر حضرت اقدس کے گھر کو اور مسجد مبارک اور بازار اور مسجد اقصیٰ کو جانے کا راستہ بند ہو گیا ایک چکر کاٹ کر لوگوں کو نماز کے لئے جانا پڑتا اور اس دیوار کے سامنے کھلے میدان میں آکر یکے کھڑے ہوتے تھے اور ضروریات کے چھکڑے وہیں آتے تھے ان سب کو روک دیا اور وہ اپنے خیال میں بہت خوش تھا اور سمجھتا تھا کہ اس نے پور اوار کیا ہے۔یہ دیوارے جنوری ۱۹۰۰ء کو عمیر کی گئی ۱۹۰۰ء میں جو الہامات إِنَّ الرَّحی تَدُورُ سے شروع ہوتے ہیں وہ اسی دیوار کے متعلق ہیں حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے اپنی چھٹی نمبر 4 میں جوے ارجنوری ۱۹۰۰ ء کے احکم میں شائع ہوئی اس واقعہ کے متعلق تحریر فر مایا۔اگر چہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ اب جو کچھ لکھتا ہوں اسے آئندہ خط میں لکھوں گا اس چٹھی کی قسط اول ۷ ارجنوری ۱۹۰۰ ء میں شائع ہوئی تھی دیا گیا حوالہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ء والی دوسری قسط میں ہے۔