حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 31 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 31

حیات احمد کا دروازہ ہے تو بس یہی ہے ۳۱ و ایں سعادت بزور بازو نیست جلد پنجم حصہ اول چوہدری رام بھجدت صاحب ایک مشہور آریہ لیڈر اور وکیل گزرے ہیں وہ بھی عیسائیوں کی طرف سے اس مقدمہ میں مفت پیروی کیا کرتے اور خاص دلچپسی و انہماک اور جوش و سرگرمی سے عیسائیوں کی مدد کیا کرتے میرے محترم بزرگ جبى فى الله حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب جنہوں نے تراب بن کر خدا پایا اور اس کا عرفان پا کر عرفانی کہلائے انہوں نے چوہدری صاحب سے بے تکلفانہ سوال کیا کہ مجھےسمجھ میں نہیں آیا کہ آپ کی سرگرمیوں کو حیرت و استعجاب سے دیکھا کرتا ہوں چوہدری صاحب نے جواب دیا آپ کو مجھ پر تعجب آتا ہے مگر مجھے اس سے بھی بڑھ کر آپ پر تعجب آتا ہے کہ آپ ہمارے جگر گوشے اور عمل ہم سے چھین کر جدا کر رہے ہیں پھر الٹے اس قسم کے سوال بھی کرتے ہیں اور تعجب بھی اور پھر یہی امر ۱۹۰۸ء کے جلسہ پیغام سح کے موقعہ پر جو لاہور یو نیورسٹی ہال میں منعقد ہوا تھاد ہرایا تھا کہ صلح صلح تو آپ کہتے ہیں مگر لخت جگر ہمارے اور ٹورنظر ایک ایک کر کے لئے جارہے ہیں ان کی واپسی اور ہمارے نقصان کی تلافی صلح کی شرط اول ہے حقیقت یہ ہے کہ چوہدری صاحب محترم میرے بزرگ اور موہیال بھائی ہونے کے علاوہ ایک ہی بستی یعنی کنجروڑ ہی کے رہنے والے تھے اور واقعی میرے تمام بزرگوں کو میری جدائی کا سخت رنج اور بھاری صدمہ تھا مگر افسوس یہ ہے کہ وہ مجھ سے کوئی بدلہ لینے کی بجائے پادریوں سے مل کر میرے معصوم آقا پر وار کرتے رہے۔گناہگار تھا ان کا تو میں نہ کہ میرے آقا۔میرے آقا کب مجھے لینے گئے تھے؟ مجھے لایا تھا تو حضور کے قدموں میں میرا خدا نہ کوئی اور پس لڑائی ان کی بنتی تھی تو مجھ سے یا پھر خدا سے۔مگر دنیایا در کھے اور دنیا والے بھی کان کھول کرس رکھیں کہ فتح دنیا میں ہمیشہ صداقت و راستی اور نیکی و پاکبازی کی ہی ہوتی آئی ہے اور اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ ہوتا چلا جائے گا۔جھوٹ کا بت اور بطالت کا مجسمہ بھی حق و صداقت کے مقابل میں قائم رہا نہ رہ سکے گا۔لوائے فتح و ظفر ہمیشہ صداقت و راستی کے خدمتگاروں کے سر رہا ہے جھوٹ اور باطل کے پرستار کیا اور خدمت گزار کیا ہمیشہ ہی ذلیل وخوار اور گونسار ہوئے اور ہوں