حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 453 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 453

حیات احمد ۴۵۳ جلد پنجم حصہ اوّل یہی پسند کرے۔لہذا خدا نے سورۃ فاتحہ میں یہی تعلیم کی تھی جس کو اس زمانہ کے مسلمان ترک کر بیٹھے ہیں۔وہ نام جو اس سلسلہ کے لئے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمد یہ ہے اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں۔یہی نام ہے جس کے لئے ہم ادب سے اپنی معزز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام سے اپنے کاغذات اور مخاطبات میں اس فرقہ کو موسوم کرے یعنی مسلمان فرقہ احمد یہ جہاں تک میرے علم میں ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ آج تک تمیں ہزار کے قریب متفرق مقامات پنجاب اور ہندوستان کے لوگ اس فرقے میں داخل ہو چکے ہیں اور جولوگ ہر ایک قسم کے بدعات اور شرک سے بیزار ہیں اور دل میں یہ فیصلہ بھی کر لیتے ہیں کہ ہم اپنی گورنمنٹ سے منافقانہ زندگی بسر کرنا نہیں چاہتے اور صلح کاری اور بُردباری کی فطرت رکھتے ہیں، وہ لوگ بکثرت اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموما عقل مندوں کی اس طرف ایک تیز حرکت ہورہی ہے اور یہ لوگ محض عوام میں سے نہیں ہیں بلکہ بعض بڑے بڑے معزز خاندانوں میں سے ہیں۔اور ہر ایک قسم کے تاجر اور ملازمت پیشہ اور تعلیم یافتہ اور علماء اسلام اور رؤساء اس فرقہ میں داخل ہیں۔گو بہت کچھ عام مسلمانوں کی طرف سے یہ فرقہ ایذا بھی پارہا ہے لیکن چونکہ اہل عقل دیکھتے ہیں کہ خدا سے پوری صفائی اور اس کی مخلوق سے پوری ہمدردی اور حکام کی اطاعت میں پوری طیاری کی تعلیم اسی فرقہ میں دی جاتی ہے اس لئے وہ لوگ طبعا اس فرقہ کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں۔اور یہ خدا کا فضل ہے کہ بہت کچھ مخالفوں کی طرف سے کوششیں بھی ہوئیں کہ اس فرقہ کو کسی طرح نابود کر دیں مگر وہ سب کوششیں ضائع گئیں۔کیونکہ جو کام خدا کے ہاتھ سے اور آسمان سے ہو انسان اس کو ضائع نہیں کر سکتا۔اور اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمد یہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے دو نام تھے۔ایک محمد مصطفی ملی ہے۔صلى الله دوسرا احمد علﷺ اور اسم محد جلالی نام تھا اور اس میں یہ خفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت مے ان