حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 441
حیات احمد ۴۴۱ جلد پنجم حصہ اول پہنچ جاتا ہے جس میں پیر مہر علی شاہ کو آسمان پر چڑھایا ہوا ہوتا ہے اور میری نسبت گالیوں سے کاغذ بھرا ہوا ہوتا ہے اور عوام کو دھو کہ پر دھوکہ دے رہے ہیں۔اور میری نسبت کہتے ہیں کہ دیکھو اس شخص نے کس قدر ظلم کیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جیسے مقدس انسان بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے صعوبت سفر اٹھا کر لاہور میں پہنچے مگر یہ شخص اس بات پر اطلاع پا کر کہ در حقیقت وہ بزرگ نابغہ زمان اور تحبانِ دوران اور علیم معارف قرآن میں لاثانی روزگار ہیں اپنے گھر کے کسی کوٹھہ میں چھپ گیا ورنہ حضرت پیر صاحب کی طرف سے معارف قرآنی کے بیان کرنے اور زبان عربی کی بلاغت فصاحت دکھلانے میں بڑا نشان ظاہر ہوتا۔لہذا آج میرے دل میں ایک تجویز خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی جس کو میں اتمام حجت کیلئے پیش کرتا ہوں اور یقین ہے کہ پیر مہر علی صاحب کی حقیقت اس سے کھل جائے گی کیونکہ تمام دنیا اندھی نہیں ہے۔انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو کچھ انصاف رکھتے ہیں اور وہ تدبیر یہ ہے کہ آج میں ان متواتر اشتہارات کا جو پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید میں نکل رہے ہیں ، یہ جواب دیتا ہوں کہ اگر در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب علم معارف قرآن اور زبان عربی کے ادب اور فصاحت اور بلاغت میں یگانہ روزگار ہیں تو یقین ہے کہ اب تک وہ طاقتیں ان میں موجود ہوں گی۔کیونکہ لاہور بقیہ حاشیہ۔ہم نے اس مقابلہ کے لئے کوشش کی۔پانسو روپیہ انعام دینا بھی کیا۔لیکن پیر صاحب اور ان کے حامیوں نے اس طرف رخ نہ کیا۔ظاہر ہے کہ اگر بالفرض کوئی کشتی دو پہلوانوں کی مشتبہ ہو جائے تو دوسری مرتبہ کشتی کرائی جاتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ایک فریق تو اس دوبارہ کشتی کے لئے کھڑا ہے تا احمق انسانوں کا شبہ دور ہو جائے اور دوسرا شخص جیتتا ہے اور میدان میں اس کے مقابل کھڑا نہیں ہوتا اور بیہودہ عذر پیش کرتا ہے۔ناظرین برائے خدا ذرا سوچو کہ کیا یہ بدنیتی سے خالی ہے کہ پہلے مجھ سے منقولی بحث کرو پھر اپنے تین دشمنوں کی مخالفانہ گواہی پر میری بیعت بھی کر لو اور اس بات کی پروانہ کرو کہ تمہارا خدا سے وعدہ ہے کہ ایسی بحثیں میں کبھی نہ کروں گا پھر بیعت کرنے کے بعد بالمقابل تفسیر لکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے یہ پیر صاحب کا جواب ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شرط دعوت منظور کر لی تھی۔منہ