حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 437 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 437

حیات احمد ۴۳۷ جلد پنجم حصہ اول میں جان نہیں مگر پیر مہر علی شاہ صاحب جن کو لاہور کے بعض رئیسوں سے بہت تعلقات ہیں اور شاید پیری مریدی بھی ہے ان کو روپیہ جمع کرانے کی کچھ ضرورت نہیں۔کافی ہوگا کہ حضرات معزز ریکسان موصوفین بالا ان تمام سرحدی پُر جوش لوگوں کے قول اور فعل کے ذمہ دار ہو جائیں جو پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور نیز ان کے دوسرے لا ہوری مریدوں خوش عقیدوں اور مولویوں کی گفتار کر دار کی ذمہ داری اپنے سر پر لے لیں۔جو کھلے کھلے طور پر میری نسبت کہہ رہے ہیں اور لاہور میں فتوی دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ان چند سطروں کے بعد جو ہر سہ معزز رئیسان مذکورین بالا اپنی ذمہ داری سے اپنے دستخطوں کے ساتھ شائع کردیں گے اور پیر صاحب کے مذکورہ بالا اشتہار کے بعد پھر میں اگر بلا توقف لاہور میں نہ پہنچ جاؤں تو کا ذب ٹھہروں گا۔ہر ایک شخص جو نیک مزاج اور انصاف پسند ہے اگر اس نے لاہور میں پیر مہر علی شاہ صاحب کی جماعت کا شور و غوغا سنا ہوگا اور ان کی گالیوں اور بد زبانیوں اور سخت اشتعال کے حالات کو دیکھا ہو گا تو وہ اس بات میں مجھ سے اتفاق کرے گا کہ اس فتنہ اور اشتعال کے وقت میں بجز شہر کے رئیسوں کی پورے طور کی ذمہ داری کے لاہور میں قدم رکھنا گویا آگ میں قدم رکھنا ہے۔جو لوگ گورنمنٹ کے قانون کی بھی کچھ پرواہ نہ رکھ کر علانیہ فتوے پر فتویٰ میری نسبت دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے کیا ان کا وجود خطرناک نہیں ہے اور کیا شرع اور عقل فتویٰ دے سکتے ہیں کہ یہ پُر جوش اور مشتعل لوگوں کے مجمعوں میں بغیر کسی قانونی بندوبست کے جانا مضائقہ نہیں ہے؟ بے شک لاہور کے معزز رئیسوں کا یہ فرض ہے کہ آئے دن کے فتنوں کے مٹانے کے لیے یہ ذمہ داری اپنے سر پر لے لیں اور اپنی خاص تحریروں کے ذریعہ سے مجھے لاہور میں بلالیں اور اگر پیر مہر علی شاہ صاحب بالمقابل عربی تفسیر لکھنے سے عاجز ہوں جیسا کہ در حقیقت یہی سچا امر ہے تو ایک اور سہل طریق ہے جو وہ طرز مباحثہ کی نہیں جس