حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 435
حیات احمد ۴۳۵ جلد پنجم حصہ اوّل بحث کر سکتے ہیں اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیج دوں۔اور اگر حتی فِی اللہ فاضل جلیل القدر مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی پیر صاحب کے ساتھ بحث کرنا قبول فرماتے تو ان کا فخر تھا کہ ایسے سید بزرگوار محدث اور فقیہ نے اپنے مقابلہ کے لئے اُن کو قبول کیا مگر افسوس کہ سید صاحب موصوف نے جب دیکھا کہ اس جماعت میں ایسے گندے لوگ موجود ہیں کہ گندی گالیاں اُن کا طریق ہے تو اس کو مشتے نمونہ از خروارے پر قیاس کر کے ایسی مجلسوں میں حاضر ہونے سے اعراض بہتر سمجھا۔ہاں میں نے پیر مہر علی شاہ صاحب کے لئے بطور تحفہ ایک رسالہ تالیف کیا ہے جس کا نام تحفہ گولڑویہ رکھا ہے جب پیر صاحب موصوف اس کا جواب لکھیں گے تو خو دلوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے دلائل کیا ہیں اور ان کا جواب کیا۔اب ہم اپنے اس اشتہار کے مقابل پر جو بنا اس دعوت کی ہے پیر مہر علی شاہ صاحب کا اشتہار لکھ دیتے ہیں۔ناظرین خود فیصلہ کرلیں کہ آیا ان کا جواب نیک نیتی اور حق پژوہی کی راہ سے ہے یا شطرنج کے کھیلنے والے کی طرح صرف ایک چال ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر خاکسار مرزا غلام احمد قادیان ۲۵ /اگست ۱۹۰۰ء ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۵۳ ۴۰ ۴۵ طبع بار دوم ) نوٹ۔چونکہ دونوں اشتہار ہم اس کتاب میں اوپر درج کر آئے ہیں اس واسطے ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔جب اس پر بھی پیر گولڑوی کی مہر سکوت نہ ٹوٹی اور آتھم کی طرح باوجو دلوگوں کے اکسانے اور بہت کچھ لوگوں کے زور لگانے کے اس کو ہرگز جرات نہ ہوئی کہ یہ الفاظ نمونہ سے نکال سکے کہ مجھے مرزا صاحب کے ساتھ مقابلہ بالتفسیر منظور ہے تب حضرت اقدس کی طرف سے ایک اشتہار مورخہ ۲۸ راگست ۱۹۰۰ء جس میں پیر گولڑوی کے منشاء کے مطابق حضرت نے منظور فر مایا کہ ہم ایک