حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 391 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 391

حیات احمد ۳۹۱ جلد پنجم حصہ اول بعد میں حالات بدل گئے اور وہ مخالفت کے لئے میدان میں آئے اور وہ خاص مجلسوں میں کہہ دیا کرتے تھے کہ ہماری آمدنی کا ذریعہ تو مخالفت ہے۔اور جب کوئی اعتراض کرتا تو کہہ دیتے کہ یہ تو ہماری سچائی کا ثبوت ہے بہر حال مولوی ثناء اللہ اس میدان میں حضرت اقدس کے پرچم کے نیچے کھڑے ہو گئے۔اور حضرت اقدس نے جناب مفتی محمد صادق صاحب سے بشپ کی تقریر کا خلاصہ سنا اور زندہ رسول پر ایک تقریر لکھ دی جو اسی روز چھپ کر تیار ہوگئی۔اس دن رنگ محل پورا بھرا ہوا تھا اور ہر طبقہ کے مسلمان اور ہندو اور عیسائی جمع تھے بشپ صاحب کی تقریر کے بعد جب حضرت مفتی صاحب نے وہ جواب پڑھا تو لوگوں نے اسے اعجاز یقین کیا کہ بشپ صاحب نے آج تقریر کی ہے اور اس کا جواب پہلے سے چھاپ کر تقسیم کر دیا گیا چونکہ یہ نصف صدی قبل سے زائد کا واقعہ ہے اور اس کے دیکھنے والوں میں سے بھی چند لوگ باقی ہیں اور تیسری نسل شروع ہو چکی ہے اس لئے میں اسے یہاں دے دیتا ہوں تا کہ آج بھی اسے پڑھ کر ایمان تازہ ہو۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جناب بشپ صاحب کے لیکچر زندہ رسول“ پر کچھ ضروری بیان چونکہ مسلمانوں کو بھی اس تقریر کے بعد میں بات کرنے کا موقعہ دیا گیا ہے۔اس لئے مختصر ا میں بھی کچھ بیان کرتا ہوں بشپ صاحب کی طرف سے یہ دعوی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ اپنے خا کی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف چلے گئے تھے مگر افسوس کہ ہم کسی طرح اس دعوی کو قبول نہیں کر سکتے ، نہ عقل کے رو سے ، نہ انجیل کی رو سے اور نہ قرآن شریف کے رو سے۔عقل کے رو سے اس لئے کہ حال اور گزشتہ زمانہ کے تجارب ثابت کرتے ہیں کہ انسان سطح زمین سے چھ میل تک بھی اوپر کی طرف صعود کر کے زندہ نہیں رہ سکتا اور یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود کی کوئی ایسی خاص بناوٹ تھی جس سے کتر کا زمہریرہ کی سردی ان کو ہلاک نہیں کر سکتی تھی بلکہ برخلاف اس کے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ تمام انسانوں کی طرح وہ کھاتے پیتے اور