حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 383 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 383

حیات احمد ۳۸۳ جلد پنجم حصہ اول ۱۸ مئی ۱۹۰۰ ء اور فتح اسلام ۱۸ مئی ۱۹۰۰ء کو بشپ صاحب نے لاہور میں نبی معصوم اور زندہ رسول پر ایک لیکچر دیا اس کی مختصر کیفیت الحکم ۳۱ رمئی ۱۹۰۰ء میں درج ہے۔وو یہ امر مشیت ایزدی میں مقدر ہو چکا تھا کہ آخری دنوں میں جب اسلام کمزور ہو جائے گا اور عیسائیت (جس کا دوسرا نام دجل اور باطل بھی ہے ) اپنے پورے زور اور طاقت کے ساتھ اسلام پر ٹوٹ پڑے گی اُس وقت خدا تعالیٰ کا مامور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس لکڑی کی عظمت کو توڑ ڈالے گا جو عیسائیت کے نزدیک ایک راست باز کو ملعون بنا کر اُن کی نجات کا موجب ہوئی ہے وہ کیا ؟ صلیب! جس پر مسیح اسرائیلی نابکار یہودیوں کے ہاتھوں لٹکایا گیا یہ زمانہ جس میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں وہی زمانہ ہے جو صلیبی فتنوں کا مجموعہ اور با ایں ہمہ مسیح موعود کے وجود باجود کے سبب رحمت الہی کے نزول کا زمانہ اور لیلۃ القدر کے ہم رنگ ہے مسیح موعود کے آنے کے ساتھ ہی مذہبی مناظرات کی تحریکوں کا خیال بَرْقِ لامع کی طرف ہر مذہب کے پیرؤوں کے دلوں میں دوڑ گیا ہے چنانچہ ان دنوں ایک عظیم الشان تحریک لاہور میں ہوئی لاہور کے لاٹ پادری (بشپ صاحب نے لاہور میں ایک جلسہ ۱۸ رمئی ۱۹۰۰ء کو کیا۔اس جلسہ میں انہوں نے ”نبی معصوم“ کے مضمون پر لیکچر دیا اور اختتام لیکچر پر مسلمانوں کو اعتراض کرنے کے لئے چیلنج کیا ہم اس مضمون میں اس جلسہ یا اس کے بعد کے دوسرے جلسہ منعقدہ ۲۵ رمئی ۱۹۰۰ء کی مفصل روئداد نہ لکھیں گے کیونکہ ہم ان دونوں جلسوں کی مفصل روئدا دا ایک رسالہ کی صورت میں مرتب کر رہے ہیں جو انشاء اللہ ارجون ۱۹۰۰ ء تک شائع ہو جاوے گی۔