حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 382
حیات احمد ۳۸۲ جلد پنجم حصہ اوّل ریورنڈ لیٹرائے نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید کی آیات پڑھ کر حضرت مسیح کی فضیلت ثابت کرنا چاہی اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا اس مضمون میں اس نے مسیح کے مس شیطان سے پاک ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور حیات المسیح پر زور دیا۔رنگ محل بھرا ہوا تھا مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی مگر تقریر کے بعد جواب دینے کو کوئی کھڑا نہیں ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ خادم کھڑا ہوا اور سب سے پہلے وفات مسیح کے مسئلہ کولیا جوان دنوں بہت شہرت یافتہ مسئلہ تھا اور ریورنڈ لیفرائے نے خیال کیا کہ مسلمان اس کی تائید کریں گے لیکن جب راقم الحروف نے کہا کہ مسیح ابن مریم جو اللہ کا رسول تھا وہ دوسرے انبیاء کی طرح فوت ہو گیا اور صرف زندہ نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں سارے رنگ محل میں ایک مسرت آمیز ہیجان پیدا ہو گیا۔پادری لیفرائے نے اس وقت جواب تو کچھ نہیں دیا مسلمانوں سے کہا کہ یہ مرزا قادیان کا عقیدہ ہے اور یہ صاحب مرزائی معلوم ہوتے ہیں۔یہ لوگ میرے مخاطب نہیں مسلمان ان کو مسلمان نہیں سمجھتے میں نے عام مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے۔اس پر تمام مسلمان جو ہال میں موجود تھے بآواز بلند بول اٹھے کہ ہم مانتے ہیں مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور ہم مرزائی نہیں۔اس نے ریورنڈ لیفٹر ائے کو حیران کر دیا اور پھر مکرم حافظ فضل احمد صاحب مرحوم و مغفور نے ایک برجستہ تقریر وفات مسیح پر کی اور ہر طرف سے جزاک اللہ کے نعرے بلند ہوتے رہے یہ پہلا موقعہ تھا کہ دوسرے مسلمانوں نے ہمارا ساتھ دیا دراصل حضرت نبی کریم ﷺ کی صداقت کا یہ زندہ نشان تھا۔پھر کئی سال گزرنے کے بعد جب پادری لیفر ائے لاہور کا بشپ مقرر ہوا تو مئی ۱۹۰۰ء میں اس نے حسب معمول لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور اس میں نبی معصوم اور زندہ رسول کے عنوان سے ایک لیکچر اسی رنگ محل میں دیا اور مسلمانوں کو دعوت مقابلہ دی۔