حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 370
حیات احمد ۳۷۰ جلد پنجم حصہ اوّل میں جس قدر مناسب حصہ ہو گا۔اس پر ہماری قوم اور مجلس منتظمہ غور کرنے کی ضرورت سمجھے گی۔اس شاخ کی ضرورت ہے اس میں شک نہیں کہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں اس شاخ کی بے حد ضرورت تھی۔اور سچ پوچھو تو تعلیم الاسلام کے نام کا منشاء یہی تھا اور ہے اور ہماری شروع سے یہی آرزو تھی کہ مدرسہ کے متعلق ایک ایسی برانچ کھولی جاوے جس میں علوم عربیہ اور قرآن کریم اور احادیث پڑھائے جائیں اور عربی زبان میں مضامین لکھنا تقریر کرنا طالب علموں کو سکھایا جاوے اور اگر ممکن ہو تو اس کے ساتھ صرف انگریزی زبان بھی سکھائی جاوے بہر حال ہم کسی بھی تقریر میں اس کی ضرورت ثابت کرنا نہیں چاہتے کیوں کہ یہ ایک مسلم اور ثابت شدہ امر ہے کہ دارالامان کے مامور علیہ الصلوۃ والسلام کا پاک وجود احیاء دین کے لئے ہے اس کی ساری کوشش اسی ایک بات میں خرچ ہورہی ہے کہ مسلمان۔مسلمان ہیں اور اسلام اور قرآن کا بول بالا ہومگر ہم کو جس امر پر غور کرنا باقی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس شاخ کا انتظام کس طرح پر ہو اور کیوں کر اس کو چلا یا جاوے کیا تعلیم ہو۔اس شاخ میں کیا تعلیم ہو دینیات کی شاخ کا نام خود بتلا رہا ہے کہ اس میں دینی علوم پڑھائے جاویں گے۔مگر ہم اپنے خیال میں اس شاخ کا جو منشاء سمجھے ہوئے ہیں۔اس کو ذرا کھول کر بیان کر دینا چاہتے ہیں اصل غرض اس شاخ کے اجرا سے یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے لوگوں کی پاکیزہ باعمل جماعت پیدا ہو جو قرآن کریم کے حقائق و معارف کو زبان سے بیان کر سکے اور اپنے عمل سے کر کے دکھاوے اور موجودہ واعظوں کی اصلاح کرے پس ضروری ہے کہ اس کے لئے ایک ایسی اسکیم تیار کی جاوے جو پرانے زمانے کی بھدی سکیموں کے موافق نہ ہو بلکہ صرف ونحو کی ضروری تعلیم جس سے انسان غلط بیانی اور غلط نویسی سے بچ سکے اور قواعد ضروریہ کا لحاظ رکھ سکے۔البتہ علم ادب خوب پڑھایا