حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 330 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 330

حیات احمد ۳۳۰ جلد پنجم حصہ اول رُکن امین سمجھ بیٹھے تھے اپنے ساتھ ہی ندامت کا حصہ دے گیا اور اس طرح پر انہوں نے ایک صادق کی پیشگوئی کی تکذیب کا مزہ چکھ لیا۔اب ان کو چاہیے کہ آئندہ اپنی زبانوں کو سنبھالیں کیا یہ سچ نہیں کہ میری تکذیب کی وجہ سے بار باران کو خجالت پہنچ رہی ہے۔اگر وہ سچ پر ہیں تو کیا باعث کہ ہر ایک بات میں آخر کار کیوں ان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔تبلیغ رسالت جلد ۸ صفحه ۹۲ تا ۹۸ - مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۳۰ تا ۳۳۴ طبع بار دوم ) مولوی محمد حسین صاحب کی علمی پردہ دری مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضرت اقدس کی مخالفت میں جس طرح پر پیش پیش تھا اور اس نے دعوی کیا تھا جو سراسر کبر ونخوت کا نتیجہ تھا کہ میں نے ہی اس کو اونچا کیا اور میں ہی گراؤں گا مگر اس دعوی کے بعد وہ نیچے ہی نیچے گرتا گیا اس کی ناکامی اور ذلت کی داستان طویل ہے اور پہلے بھی اس کا ذکر اکثر آتا رہا ہے اسے اپنے علم پر بڑا گھمنڈ تھا اور کسی کو اپنا مد مقابل نہ سمجھتا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ فی الحقیقت ایک صاحب علم اور زیرک مولوی تھا اس کے عہد کے علماء اس کا لوہا مانتے تھے مگر جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں کھڑا ہوا اور بڑا بلند بانگ دعویٰ کیا کہ میں اسے گراؤں گا۔اسی دن سے اس کی وہ عزت و دھاک جاتی رہی اور وہ اپنے ہی طبقہ میں ذلیل ورسوا ہو گیا اور خود اس کی جماعت اہل حدیث ( جن کا وہ ایڈوکیٹ کہلاتا تھا) نے اسے دھتکار دیا۔خاکسار عرفانی اس سے ۱۸۹۱ء سے بے تکلف تھا اس کے علم کا اس پر کبھی رعب نہیں ہوا۔مولوی محمد حسین کو جب عربی تفسیر کے لئے بلایا گیا تو اس نے حضرت کی تصانیف پر ایسے اعتراض کئے جن کے جواب پر ایسا نادم ہونا پڑا اور کبھی عربی تفسیر نویسی کیلئے میدان میں نہ آیا مگر اب اس کی علمی پردہ دری کا ایک خاص موقعہ پیدا ہوا کہ حضرت اقدس نے ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں جو اشتہار خود محمد حسین اور جعفر زٹلی وغیرہ کے متعلق شائع کیا تھا اس میں وہ الہامات بھی درج تھے جو ان کی ذلت اور نا کامی کے متعلق ہوئے تھے اس پر مولوی محمد حسین نے ایک علمی اعتراض بخیال خویش بدخواب پیش کیا اس پر حضرت