حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 329 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 329

حیات احمد ۳۲۹ جلد پنجم حصہ اوّل الہام ظاہر کیا ہے کہ وہ سلطنت کا سچا امین اور دیانت دار عہدہ دار نہیں ہے اور اس کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے اور اس کو ڈرایا گیا ہے کہ تو بہ کر دور نہ تیرا انجام اچھا نہیں حالانکہ وہ مہمان تھا۔انسانیت کا یہ تقاضا تھا کہ اس کی عزت کی جاتی “۔ان تمام الزامات کا میری طرف سے یہی جواب تھا کہ میں نے اپنے نفس کے جوش سے حسین کا می کو کچھ نہیں کہا بلکہ جو کچھ میں نے اس پر الزام لگایا تھا وہ الہام الہی کے ذریعہ سے تھا نہ ہماری طرف سے مگر افسوس کہ اکثر اخبار والوں نے اس پر اتفاق کرلیا کہ در حقیقت حسین کا می بڑا امین اور دیانت دار بلکہ نہایت بزرگوار اور نائب خلیفہ المسلمین سلطان روم تھا۔اُس پر ظلم ہوا کہ اُس کی نسبت ایسا کہا گیا اور اکثر نے تو اپنی بات کو زیادہ رنگ چڑھانے کیلئے میرے تمام کلمات کو سلطان المعظم کی طرف منسوب کر دیا تا مسلمانوں میں جوش پیدا کریں۔چنانچہ میرے ان الہامات سے اکثر مسلمان جوش میں آگئے اور بعض نے میری نسبت لکھا کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔اب ہم ذیل میں بتلاتے ہیں کہ ہماری یہ پیشگوئی سچی نکلی یا جھوٹی۔واضح ہو کہ عرصہ تخمینا دو ماہ یا تین ماہ کا گزرا ہے کہ ایک معز ز ترک کی معرفت ہمیں یہ خبر ملی تھی کہ حسین کا می مذکور ایک ارتکاب جرم کی وجہ سے اپنے عہدے سے موقوف کیا گیا ہے اور اس کی املاک ضبط کی گئی ، مگر میں نے اس خبر کو ایک شخص کی روایت خیال کر کے شائع نہیں کیا تھا کہ شاید غلط ہو۔آج اخبار نیر آصفی مدراس مورخہ ۱۲ اکتوبر۱۸۹۹ء کے ذریعہ سے ہمیں مفصل طور پر معلوم ہو گیا کہ ہماری وہ پیشگوئی حسین کامی کی نسبت کامل صفائی سے پوری ہوگئی۔ہماری وہ نصیحت جو ہم نے اپنے خلوت خانہ میں اس کو کی تھی کہ تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ جس کو ہم نے اپنے اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء میں شائع کر دیا تھا اُس پر پابند نہ ہونے سے آخر وہ اپنی پاداش کردار کو پہنچ گیا اور اب وہ ضرور اس نصیحت کو یاد کرتا ہوگا مگر افسوس یہ ہے کہ وہ اس ملک کے بعض ایڈیٹران اخبار اور مولویان کو بھی جو اس کو نائب خلیفہ المسلمین اور