حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 319
حیات احمد ۳۱۹ جلد پنجم حصہ اول وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيْلَ الْمُجْرِمِينَ۔قُلْ إِنِّى أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ - یعنی اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی اور جو تو نے چلایا یہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا اس نے تجھے علم قرآن کا دیا تا تو ان کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔اور تا مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی سعید لوگ الگ ہو جائیں اور شرارت پیشہ اور سرکش آدمی الگ ہو جائیں اور لوگوں کو کہہ دے کہ میں مامور ہو کر آیا ہوں اور میں اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ہوں۔ان الہامات کے بعد کئی طور کے نشان ظاہر ہونے شروع ہوئے چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ کہ ۲۸ / نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کے دن سے پہلے آتی ہے اس قدر شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اس کو بیان کر سکوں مجھ کو یاد ہے کہ یہ الہام بکثرت ہو رہا تھا مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى سواس رمی کورمی شہب سے بہت مناسبت تھی۔یہ شہب ثاقبہ کا تماشا جو ۲۸ رنومبر ۱۸۹۹ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حفظ اور لذت اٹھانے والا میں ہی تھا۔میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیوں کہ یہ میرے دل میں الہاما ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۰۹ تا ۱۱۱)