حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 318
حیات احمد ۳۱۸ جلد پنجم حصہ اول ۱۷ نومبر ۱۸۹۹ ء تک آسمان پر تاروں کی بارش ہوگی اور ۱۴/ نومبر کو تو بہت کثرت سے آسمان پر ستاروں کی آتش بازی کا تماشا نظر آئے گا اس نظارہ کو دیکھنے کے لئے وائنا سے ایک علمی مجمع ان علمائے فلکیات کا ہندوستان آنے کا اعلان ہوا۔اور یہ بات بھی مشہور تھی کہ ۱۳ نومبر ۱۸۹۹ء کو قیامت آجائے گی۔خود حضرت حجتہ اللہ علی الارض علیہ السلام کے حضور بہت سے خطوط اس آسمانی نشان کے متعلق آئے اس پر بتایا گیا کہ یہ خیال تو غلط ہے کہ ۱۳ نومبر کو قیامت آجائے گی، مگر یہ آسمانی نشان قیامت کا پیش خیمہ ضرور ہے اور انجیل میں حضرت مسیح بھی اپنے آپ کو قیامت کہتے ہیں اور قرآن مجید میں بھی انہیں علمُ السَّاعَة کہا گیا ہے اور گویا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق پیشگوئی ہے اور حضرت نبی کریم ﷺ کے متعلق تو ہے ہی۔بہر حال اس خبر اور علمی مفکروں کے اشتہارات نے ایک عالمی دلچسپی پیدا کر دی قرآن کریم اور واقعات آسمانی کی تاریخ کے پر غور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے نشانات کسی مامور من اللہ کے ظہور کے وقت ہوتے ہیں۔پس یہ نشان ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک نشان تھا اور یہ عجیب بات ہے کہ نومبر ۱۸۸۵ء میں اسی قسم کا شاندار واقعہ ظہور میں آیا۔راقم الحروف اس وقت بارہ ، تیرہ سال کا تھا اور نومبر ۱۸۸۵ء کی اُس رات کو عام طور پر لوگ سوئے نہیں۔کہا جاتا تھا کہ حضرت امام مہدی کا ظہور ہو گیا ہے اور اب قیامت قریب ہے اس واقعہ کے ظہور کے وقت ساری رات مسلمان علی العموم جاگتے رہے اور اپنا وقت تسبیح و استغفار میں گزارا۔اب اس وقت تو ہمیں کچھ معلوم نہ تھا مگر بعد میں جلد اس حقیقت کا علم ہو گیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کا ذکر آئینہ کمالات کے صفحہ ۱۰۹ ( طبع اوّل) کے حاشیہ میں اس طرح پر کیا ہے اور اسے بالہام الہی اپنا مصداق قرار دیا ہے۔" مجھے یاد ہے کہ ابتدائے وقت میں جب میں مامور کیا گیا تو مجھے یہ الہام ہوا کہ جو براہین احمدیہ کے ۲۳۸ میں درج ہے یا اَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى۔اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَا بَآءُ هُمُ