حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 308 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 308

حیات احمد ۳۰۸ جلد پنجم حصہ اول وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذَا مِنَ الْأَثِمِينَ ۖ وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزور ہے گواہی بخدا می مید هم که پیش از وفات خود حضرت صاحب کوٹھہ والا سال یا گفتگوانه دو سال یعنی در ۱۲۹۲ هجری یا ۱۲۹۳ هجری با خواص خویش نشسته از هر باب معارف و اسرار میفرمودند ناگاه سخن مهدی در میان آمد فرمودند که مهدی موعود پیدا شده اما ظاهر نشده وَاللَّهِ بِاللَّهِ ثُمَّ تَاللهِ کہ ایں راست و درست گفته ام نہ بہوائے نفس ریا غرض دیگر لیکن حضار مجلس این سخن را مقصود ے ندانسته که مهدی چیست و کجا باشد و کی باشد اگر پرسیده شدے امید کہ مفصل بیان کرده بودے اما مجمل با ایں الفاظ افغانی با ایں عبارت چه مهدی پیدا شوی دی او وقت و ظهوری ندی ترجمه مهدی موعود پیدا شده لیکن ظاہر نشده است فقط وسنه وفات حضرت موصوف سلخ ذی الحجه ۱۲۹۴ هجری است وایس عاجز را شوق شرف اندوزی از آنجناب از حد زیاده است دعا فر ماینده که اسباب میسر شوند بخدمت شریف مولانا نورالدین صاحب تحیۃ سلام بشوق تمام قبول بادباقی السلام علیکم و على من لد یکم دست لرزاں ست اگر قصور رفتہ معاف فرمایند زیادہ ادب۔راق حمید الله المشهور بملاً ء صوات از مقام پور ضلع ہزارہ علاقه مانسیر و کیر اکتوبر ۱۹۸۹ء الحکم مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۸۹۹ صفحه ۳ و۴ ) یہ بیان مشہور و معروف مُلاءِ صوات کا ہے اس سلسلہ میں ہماری جماعت کے ایک نہایت مخلص اور شب زنده دار بزرگ حضرت مولوی محمد بیٹی صاحب اخوند زادہ د یگراں نے خود تحقیقات کر کے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایک مکتوب ارسال کیا جو انہیں ایام میں میں نے اسے الحکم مورخہ ۱ار مارچ ۱۹۰۰ء میں شائع کر دیا جس پر آج ( ۷ اکتو بر ۱۹۵۴ء) کو نصف صدی سے زائد گزرتا ہے اور کسی کو اس کی تردید کی ہمت نہیں ہوئی۔المائدة : ١٠٧ الفرقان: ۷۳