حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 295 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 295

حیات احمد ۲۹۵ جلد پنجم حصہ اول اور میں نے دیکھا کہ سراپا نور ایک بزرگ اس سے محبت اور پیار کرتے ہیں مجھ سے ذرا فاصلہ پر تشریف فرما تھے۔میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں جو میرے لخت جگر سے پیار کر رہے اس کے جواب میں مجھے حضرت امام برحق نے فرمایا کہ آپ نہیں پہنچانتے کہ یہ آپ کے جدِ امجد جناب رسول اللہ ہے ہیں۔مجھے دیکھ کر از بس خوشی ہوئی اور چاہتا تھا کہ اپنے راہنما اور ہادی کے ہمراہ قدم بوسی کا شرف حاصل کروں کہ اتنے میں آواز آئی کہ نماز تہجد کا وقت ہے اور مصروف نماز ہوا۔اور بعد ازاں درود و استغفار میں مشغول ہو گیا۔یہ ایک لمبا سلسلہ کشوف کا ہے مزید تفصیل اسی تاریخ کے الحکم میں دیکھو۔(۲) حضرت صوفی محمد علی صاحب کے کشوف حضرت صوفی محمد علی صاحب جلال پور جٹاں ضلع گجرات کے ایک متقی اور صالح بزرگ تھے وہ ایک شریف اور معزز خاندان کے فرد تھے آخر میں لاہور کے ایگزامینر آفس میں ملازم تھے۔شب زندہ دا ر اُن کے چہرے کو دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا تھا کہ یہ ایک ولی اللہ ہے ان کی سیرت پر تو کسی دوسرے موقعہ پر لکھا جائے گا۔راقم الحروف کے ساتھ بزرگا نہ تعلقات شفقت تھے اور میرے ہم مکرم حضرت صوفی مولی بخش رضی اللہ عنہ کے یک رنگ دوست ہی نہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں ہوکر اخوت دینی کے رنگ میں رنگین تھے۔انہوں نے ۱۸۹۹ء میں خاکسار کے متعلق بھی ایک کشف دیکھا جس میں ان کو دکھایا گیا ہے کہ اس خاکسار کا چہرہ درخشاں ہے اور بڑی سفید داڑھی ہے اور لمبی بھی ہے جو میری درازی عمر اور سلسلہ میں ایک مقام خدمت اور تدبر کا اشارہ کرتی ہے۔غرض انہوں نے ۲۱ ستمبر ۱۸۹۹ء کولا ہور میں ایک اشتہار شائع کیا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک نوٹ لکھا اور خاکسار کو الحکم میں ( شائع کرنے کا ) ارشادفرمایا وہ یہ ہے۔