حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 270 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 270

حیات احمد ۲۷۰ جلد پنجم حصہ اول بہشت یہی ہے کہ میں اپنی زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو رہائی پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ لوں اور میری روح ہر وقت دعا کرتی ہے کہ اے خدا اگر میں تیری طرف سے ہوں اور اگر تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ دن دکھلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اٹھا دی جائے کہ گویا نعوذ باللہ انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ایک زمانہ گزر گیا کہ میرے پنجوقت کی یہی دعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کر لیں اور تثلیث کے اعتقاد سے تو بہ کریں۔چنانچہ ان دعاؤں کا یہ اثر ہوا ہے کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے بلکہ صلیب سے نجات پاکر اور پھر مرہم عیسی سے صلیبی زخموں سے شفا حاصل کر کے نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے اور افغانستان سے کوہ نعمان میں گئے اور وہاں اس مقام میں ایک مدت رہے جہاں شہزادہ نبی کا ایک چبوترہ کہلاتا ہے جو اب تک موجود ہے۔اور پھر وہاں سے پنجاب میں آئے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے آخر کشمیر میں گئے اور ایک سو چھپیس برس کی عمر پا کر کشمیر میں ہی فوت ہوئے اور سرینگر خان یار کے محلہ کے قریب دفن کئے گئے اور میں اس تحقیقات کے متعلق ایک کتاب تالیف کر رہا ہوں۔جس کا نام ہے مسیح ہندوستان میں چنانچہ میں نے اس تحقیق کے لئے مُخلصی مُحِبّی خلیفہ نور دین صاحب کو جن کا ابھی ذکر کر آیا ہوں کشمیر میں بھیجا تھا تا وہ موقعہ پر حضرت مسیح کی قبر کی پوری تحقیقات کریں چنانچہ وہ قریباً ۴ ماہ کشمیر میں رہ کر اور ہر ایک پہلو سے تحقیقات کر کے اور موقعہ پر قبر کا ایک نقشہ بنا کر اور پانچ سو چھپن آدمیوں کی اس پر تصدیق کرا کر کہ یہی حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے جس کو عام لوگ شہزادہ نبی کی قبر اور بعض خلیفہ نور دین صاحب کو خدا تعالیٰ اجر بخشے اس تمام سفر اور رہائش کشمیر میں انہوں نے اپنا خرچ اٹھایا اپنی جان کو تکلیف میں ڈالا اور اپنے مال سے سفر کیا۔منہ