حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 237
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول تو ایں نفس را مطمئنہ کنی نماند بد مینساں ضعیف و سقیم به بندم چوں رخت سفر زیں سرائے بیائیم بسویت بقلب سلیم ندائے منادی ایماں بہ قبول کنم بخش توفیق رب رحیم ز قول مبشر مبشر شوم ز اقوال منذر بیایم به بیم بقیہ حاشیہ۔مجھے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ان دنوں بد و بڑی دلیری سے لوٹ لیتے تھے چونکہ ان دنوں اس طرف کے لوگ کمر میں ہمانیاں باندھ کر روپے لے جاتے تھے۔اس لئے ایک بد و نے سامنے سے میری کمر میں ہاتھ مارا لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا کیونکہ میں نے سارا رو پیدا مرتسر کے ایک سیٹھ کے پاس جن کی ملکہ میں بھی دکان تھی امانت رکھا ہوا تھا جب میں حج کو گیا تو گرمیوں کے دن تھے اور میں کعبہ کے صحن میں سور رہا کرتا تھا اور بعض اوقات رات کو طواف بھی کر لیتا دن کو میں کئی کئی بار نہا لیا کرتا تھا اس زمانہ میں مکہ کے قریب سے ایک نہر جاتی تھے جو اوپر سے ڈھکی ہوئی تھی اور کہیں کہیں سے اوپر کا حصہ کھلا ہوا تھا اور وہیں سے لوگ پانی لیتے تھے۔حضرت خلیفہ نورالدین صاحب سے جب خاکسار راقم ( عبدالواحد ) نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے ان واقعات کے بارہ میں سوال کیا جن کا تعلق حضرت مسیح موعود کی ذات اقدس سے ہے تو خلیفہ صاحب نے افسوس کرتے ہوئے کہا، مجھے واقعات تو بہت معلوم تھے لیکن اب حافظہ بہت کمزور ہو گیا ہے اور یادداشت نہیں رہی بہر حال خاکسار کے زور دینے پر کہ جو واقعات بھی یاد ہیں بیان فرما دیں مندرجہ ذیل چند واقعات جو خلیفہ صاحب نے بیان کئے درج کئے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود کی جموں میں آمد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی سے پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب بیمار ہو گئے۔حضرت مسیح موعود آپ کی عیادت کے لئے جموں تشریف لے گئے۔حضور کے ہمراہ حضور کے ایک خادم حامد علی صاحب تھے۔حضور نے میرے کمرہ میں قیام فرمایا۔جنگ مقدس جس وقت پادری عبد اللہ آتھم سے جنگ مقدس والا مناظرہ امرتسر میں ہوا تو میں حضرت صاحب کی طرف سے ان پر چوں کا کا تب ہوتا تھا جو مجلس میں پڑھے جاتے تھے۔اُن دنوں خواجہ کمال الدین صاحب عیسائی ہونے کے لئے تیار تھے۔انہیں ان کے خسر خلیفہ رجب دین صاحب اس مناظرہ میں اپنے ساتھ لائے خواجہ کمال الدین صاحب پر حضور کے دلائل و کلام کا ایسا اثر ہوا کہ وہ اس مناظرہ میں پکے مسلمان (احمدی) ہو گئے۔