حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 236
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول مستقیم ز لطف و کرم اے خداوند ما نمانی مرا آں رہ که در ابتدائے کلام قدیم بیانش نمودی از لطف عمیم زند راه من نفس اماره ام آویخت در در دامنم این لیم کند سرکشی ہر زماں ایں غوی نه از نفس لوامه اش پیچ بنهیم بقیہ حاشیہ۔جونہی میں پہنچا سب کا فکر دور ہوا۔اور مجھے نہایت تپاک سے گلے لگا کر سب ملے۔شادیاں اور اولاد میں نے چار شادیاں کیں پہلی بیوی سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے۔لڑکا فوت ہو گیا اور لڑکی زندہ ہے جس کا نام غلام فاطمہ ہے۔اس کی شادی ماسٹر عبد الرحمن بی۔اے نومسلم سابق ٹیچر مدرسہ احمدیہ سے ہوئی۔دوسری بیوی سے دولڑ کے اور دولڑکیاں پیدا ہو کر فوت ہو گئے۔اس بیوی سے اس وقت میرا لڑکا عبدالرحیم زندہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کے نتیجہ میں پیدا ہوا اور اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اور حضور کی دعا کی برکت سے دنیاوی طور پر بھی اچھے مقام پر رکھا ہے۔اس وقت وہ ریاست جموں وکشمیر میں اسسٹنٹ ہوم سیکرٹری ہے۔( خلیفہ عبدالرحیم صاحب جماعت کے کاموں میں خدا کے فضل سے بہت کافی حصہ لیتے ہیں۔احباب ان کے لئے خاص طور پر دعا فرما دیں۔راقم ) اس بیوی سے جو میری لڑکی زندہ ہے اس کا نام امتہ اللہ ہے اور اس کی شادی مستری فیض احمد صاحب کے ساتھ ہوئی ہے ( خلیفہ صاحب کی یہ صاحبزادی بھی خدا کے فضل سے نیک اور جماعت کے کاموں میں دلچسپی سے حصہ لینے والی ہے۔راقم ) تیسری بیوی سے ایک لڑکا عبدالرحمن پیدا ہوا جو اس وقت محکمہ کسٹم میں انسپکٹر ہے ( خلیفہ عبدالرحمن بھی مخلص احمدی نوجوان ہیں اور جماعت کے کاموں میں خاص طور پر دلچسپی لیتے ہیں۔احباب ان کو بھی خاص طور پر دعاؤں میں یا درکھیں۔راقم ) جب میری تیسری بیوی فوت ہو گئی۔اُس کے بعد ایک دفعہ قادیان گیا تو حضرت خلیفہ اول کے اہل خانہ نے زور دیا کہ خلیفہ نورالدین کی شادی کر دی جائے۔حضور خلیفہ اول اور ان کی حرم محترمہ نے میری شادی اصرار کر کے ایک جگہ کرادی۔لیکن یہ شادی قائم نہ رہ سکی بعض وجوہات کی بنا پر میں نے اسے طلاق دے دی۔حج میرے والد صاحب حج کا ارادہ رکھتے تھے لیکن وہ حج کو نہ جا سکے جن دنوں میں حضرت خلیفہ اول کے پاس جموں میں تھا تو میرے پاس کچھ روپے جمع ہو گئے اور میں حج کے لئے گیا۔میں اپنے خرچ پر ایک اور شخص کو جو پہلے حج کر آیا تھا۔بطور رہبر کے ہمراہ لے گیا مگر بمبئی سے جہاز پر سوار ہوتے ہی میرے کئی واقف بن گئے اور اس رہبر کا