حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 8 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 8

حیات احمد جلد پنجم حصہ اوّل حضرت کے حضور استبشارہ جب میں ۳۱ دسمبر تک لا ہور نہ پہنچا تومنشی محبوب عالم صاحب کا خط آیا اس وقت مجھے بھولی ہوئی باتیں یاد آئیں تو میں نے مشورہ کے لئے حضرت کے حضور زبانی عرض کیا۔آپ نے فرمایا میں تو یہی مشورہ دوں گا کہ آپ اپنے وعدہ کو پورا کریں اگر لاہور نہیں جانا چاہتے تو خود جا کر ان سے اپنے عذرات پیش کر کے اجازت لیں چنانچہ میں لاہور گیا اور منشی محبوب عالم صاحب سے اپنے ارادہ کے فتح کے وجوہات پیش کئے انہوں نے اور زُبُدَةُ الحُكَمَاء غلام نبی صاحب نے اصرار کیا۔اور میرے معاوضہ میں اضافہ کرنا بھی چاہامگر میں نے معذرت کی اور قادیان ہی واپس آجانے کا فیصلہ کیا اور میں اللہ تعالیٰ کے کس کس فضل کا ذکر کروں اور کس طرح شکر کروں کہ یہ فیصلہ ہی برکات کا موجب ہوا۔تعلیم الاسلام کے اس آغاز کے ساتھ میرا ہیڈ ماسٹری پر تقرر تو دراصل ایک ابتدائی ذریعہ تھا اور قارئین کرام کو حیرت ہوگی کہ میرے لئے جو گزارہ مقرر کیا گیا وہ ۲۵ روپے ماہوار کا تھا جسے میں نے انشراح صدر سے قبول کر لیا۔کیونکہ وہ سکے تو قادیان کی زندگی کا مقصد نہ تھے امرت سر اور لاہور میں اس سے کئی گنا زیادہ ملتے تھے۔غرض ۱۸۹۸ء میں یہ انقلاب ہوا اور میرا کریم ورحیم مولی مجھے اس طرح پر قادیان لے آیا۔ہجرت کا عزم صمیم ۱۸۹۷ء کے جلسہ پر ہوا اس لئے میں نے شروع میں غیر ارادی کہا۔مجھے اپنی زندگی کے کوائف یہاں بیان کرنے نہیں یہ ذکر میں نے اس لئے کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میری زندگی کے مختلف ادوار میں اس کام کے لئے مجھے تیار کرتی رہی اور وہ وقت آگیا کہ میں اس نعمت عظمیٰ کو پاسکا۔جس میں میری کسی محنت اور قابلیت کو دخل نہیں۔ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده امتیں اور قومیں آتی رہیں گی سلسلہ میں ممتاز خطیب اور محرر پیدا ہوں گے۔ہر ملک اور ہر قوم