حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 217 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 217

حیات احمد ۲۱۷ جلد پنجم حصہ اول ایک خلاف واقعہ مضمون شایع کرایا جس پر حضرت شہزادہ صاحب نے حضرت اقدس کے حضور ایک معذرت نامہ کے طور پر احقاق حق کے لئے عریضہ لکھا اور ظاہر کیا کہ شہزادہ والا گوہر نے مجھ پر افترا کیا ہے حضرت اقدس نے ان کے مکتوب کو شائع کرتے ہوئے صفحہ ۱۳۲ سے آخر کتاب تک اُن کے اعتراضات کا جواب قولہ وا قول کے رنگ میں دیا ہے۔گونا گوں حقائق کا سر چشمہ وو بظاہر کتاب کا آغاز ایک مسلمان معترض کے اعتراض کے جواب سے شروع ہوا ہے جس نے ۲ فروری ۱۸۹۸ء کے اشتہار بعنوان طاعون پر کیا تھا جسے آپ اس طرح پر تحریر فرماتے ہیں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض صاحبوں کے دلوں میں میرے اس اشتہار کے پڑھنے سے یہ ایک اعتراض پیدا ہوا ہے کہ لوگوں کو اوّل یہ بتانا کہ اس مرض کے استیصال کے لئے فلاں تدبیر یا دوا ہے اور پھر یہ کہنا کہ شامت اعمال سے یہ مرض پھیلتی ہے ان دونوں باتوں میں تناقض ہے اور تعجب کہ اس اعتراض کے کرنے والے بعض مسلمان ہی ہیں۔“ ایام الصلح صفحہ ۱۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۲۹) اس سوال کے جواب کے ضمن میں آپ نے دعا اور تدبیر کا فیصلہ بیان کرتے ہوئے متعدد حقائق کا دریا بہا دیا ہے دعا انسانی فطرت کا ایک طبعی خاصہ ہے اور مختلف صورتوں میں اس کا ظہور ہوتا ہے خواہ وہ انسان اس کا نام دعانہ رکھے اور فکر و غور بھی اس کی ایک شاخ ہے اس ضمن میں گویا عارف اور محبوب کی دعا میں ایک امتیاز بتایا ہے اور پھر اسی فطری جذبہ کے ظہور اور تاثیرات میں انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں کے نتائج کو پیش کیا کہ بعض اوقات بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوئی لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے اللہ تعالیٰ اس دعا کو دوسری شکل دے دیتا ہے جو دعا کرنے والے کے لئے مفید اور بابرکت نہیں ہوتی حقیقت دعا اور اس کی قبولیت کے اثرات کی سرشاری میں آپ پر ایک ایسی جلی ہوتی ہے کہ دعا کے متعلق حقیقت کا ایک لذیذ وشیر میں چشمہ جاری ہو جاتا ہے فرماتے ہیں:۔