حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 210 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 210

حیات احمد ۲۱۰ جلد پنجم حصہ اول (۸) " صبح کی نماز کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ڈاڑھ کا حصہ جو بوسیدہ ہوگئی ہے اُس کو میں نے منہ سے نکالا اور وہ بہت صاف تھا اور اُسے ہاتھ میں 66 رکھا۔پھر فرمایا کہ خواب میں دانت اگر ہاتھ سے گرایا جائے تو وہ منذر ہوتا ہے۔ورنہ مبشر۔“ الحکم جلد ۲ نمبر ۲۲ ،۲۳، مورخه ۲ ۱۳ راگست ۱۸۹۸ء صفحه ۱۶) اب یہ غم لگا ہوا ہے کہ چند دفعہ الہامات اور خوابوں سے طاعون کا غلبہ پنجاب میں معلوم ہوا تھا۔جس کے ساتھ یہ بھی تھا کہ لوگ تو بہ کریں گے۔اور نیک چلن ہو جائیں گے۔تو خدا تعالیٰ اس گھر کو بچالے گا۔“ مکتوب بنام نواب محمد علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ ، ۶ / اگست ۱۸۹۸ء مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۲۳۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (۹) وَقَالَ كَذَالِكَ لِئَلَّا يَبْقَى مُنَازِعٌ فِيْكَ وَلَا يَضُرُّكَ إِلْحَاحُ الَا غُيَارِ اس نے مجھے کہا کہ ایسا ہی کرنا چاہیے تھا تا تجھ میں خصومت کرنے والے باقی نہ رہیں اور ان کا الحاح تجھ کو ضرر نہ کرے۔(نجم الهدی صفحہ ۱۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۵۲ تذکره صفحه ۲۶۶ حاشیه مطبوعه ۲۰۰۴ء) (۱۰) () الهام۔۔۔جو حضرت اقدس کو ۳ ستمبر ۱۸۹۸ء کو ہوا اور جو جناب نے مسجد مبارک میں لکھوا کر چسپاں کر دیا ہے۔غَثَمَ غَثَمَ غَثَمَ لَهُ دَفَعَ إِلَيْهِ مِنْ مَّالِهِ دَفْعَةٌ الحکم جلد ۲، نمبر ۲۶، ۲۷،۔پر چه ۶ ۱۳ستمبر ۱۸۹۸ صفحه۱۴۔تذکره صفحه ۲۶۶ مطبوع ۲۰۰۴ء) (ب) ”میں نے جو خط لکھا تھا۔اس کے لکھنے کے لئے یہ تحریک پیدا ہوئی تھی جو چند ہفتہ ہوئے ہیں مجھے الہام ہوا تھا۔غَشَمَ لَهُ دَفَعَ إِلَيْهِ مِنْ مَّالِهِ دَفْعَةٌ * اس میں تفہیم یہ ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی مطلب کے حصول پر بہت سا حصہ اپنے مال میں سے بطور نذرانہ بھجوائے گا۔میں نے اس الہام کو اپنی کتاب میں لکھ لیا تھا بلکہ اپنے گھر کے قریب دیوار پر مسجد کی ، نہایت خوشخط یہ الہام لکھ کر چسپاں کر دیا۔اس الہام میں نہ کسی مدت کا ذکر ہے کہ کب ہوگا۔اور نہ کسی انسان کا ذکر ہے کہ کس شخص کو ایسی کامیابی ہوگی یا ایسی مسرت ظہور میں آئے گی۔لیکن چونکہ میرا دل آئمکرم کی کامیابی کی طرف لگا لسان العرب میں ہے۔غَثَمَ لَهُ مِنَ الْمَالِ غَثَمَةً إِذَا دَفَعَ لَهُ دَفْعَةٌ۔اور اقرب الموارد میں ہے غَثَمَ لَهُ دَفَعَ لَهُ دَفْعَةٌ مِّنَ الْمَالِ جَيْدَةٌ