حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 177
حیات احمد 162 جلد پنجم حصہ اوّل قریب آتا جاتا میری جان گھٹتی جارہی تھی مگر حضرت کو خاص طور پر توجہ تھی میں نے عرض کیا حضور یا تو مجھے ساتھ لے جائیں یا لاہور پہنچا دیں میں درد سے اس قدر بے قرار تھا اور میری حالت ایسی نازک معلوم ہوتی تھی کہ گویا موت اپنی طرف کھینچ رہی ہے آپ میری گھبراہٹ پر بار بارتسلی دیتے اور فرماتے کہ نہیں میں سب انتظام کر کے جاؤں گا اور تم کو آرام آجائے گا اور اگر کہو گے تو میں آج نہیں جاؤں گا۔میں آپ کی شفقت و عنایت کو دیکھتا اور شرمندہ ہوتا تھا۔آخر قرار پایا کہ حکیم فضل دین صاحب اور میاں اللہ دیا جلد ساز لدھیانہ کو میرے پاس چھوڑا جائے اور باقی قافلہ قادیان کو روانہ ہو جاوے روانگی کے وقت تک مجھ کو ایک دوا جابت ہو کر کچھ آرام ہو چلا تھا۔آپ نے حکیم صاحب کو خاص طور پر تاکید کی کہ دیکھو! کوئی تکلیف نہ ہو اور آپ نے ایک خاص رقم حکیم صاحب کے حوالہ کی تاکہ کوئی دقت نہ ہو اور جب مجھے آرام ہو جائے تو قادیان لے آکر آویں چنانچہ دوسری گاڑی کی روانگی تک اگر چہ میں اس قابل تو نہ تھا کہ قادیان کو روانہ ہو سکوں مگر میرے لئے وہاں ٹھہر نا بھی موت سے کم نہ تھا اس لئے میں حکیم صاحب اور میاں اللہ دیا کے ہمراہ قادیان کو چلا آیا۔قادیان پہنچنے پر مجھے دودن تک تکلیف اور ضعف رہا حضرت اقدس برابر دریافت فرماتے رہے اور ہر طرح تسلی اور اطمینان دلاتے رہے۔واقعہ بالکل صاف اور سادہ ہے مگر جب انسان اس کو اس رنگ میں دیکھے کہ میری کوئی شخصیت اور اثر نہ تھا۔میں خادم اور ادنیٰ خادم تھا میری علالت کا آپ نے اس طرح احساس کیا جس طرح پر اپنے کسی عزیز سے عزیز وجود کا اور یہ بات میری کسی قابلیت کی وجہ سے نہ تھی بلکہ محض اس ہمدردی کا نتیجہ اور نمونہ تھی جو آپ کو ہر شخص سے تھی کوئی بھی بیمار ہو اس کے لئے آپ کے دل میں ایسا ہی جوش ہمدردی اور محبت کا تھا اور محض خدا کی مخلوق پر شفقت کے رنگ میں ہوتا تھا اور اس کی ہی رضا کے لئے۔