حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 170
حیات احمد ۱۷۰ جلد پنجم حصہ اول تا میری جماعت پاک دلی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کی منتظر رہے۔میں اس بات کا ثبوت دیتا ہوں کہ میری کا رروائی محمد حسین کے مقابل پر اخیر تک سلامت روشی کے ساتھ رہی ہے اور میں نے بہت سے گندے اشتہار دیکھ کر جو اس کی تعلیم سے لکھے گئے تھے جن کا بہت سا حصہ خود اس نے اپنی اشاعۃ السنہ میں نقل کیا ہے وہ صبر کیا ہے جو دنیا داروں کی فطرت سے ایسا صبر ہونا غیر ممکن ہے۔محمد حسین نے میرے نگ و ناموس پر نہایت قابل شرم کمینگی کے ساتھ اور سراسر جھوٹ سے حملہ کیا ہے اور میری بیوی کی نسبت محض افتر ا سے نہایت نا پاک کلمے لکھے ہیں اور مجھے ذلیل کرنے کے لئے بار بار یہ کلمات شائع کئے کہ شخص لعنتی اور کتے کا بچہ ہے اور دوسو جو تہ اس کے سر پر لگانا چاہیے اور اس کو قتل کر دینا ثواب کی بات ہے، لیکن کون ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی میں نے اس کے یا اس کے گروہ کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کئے۔میں ہمیشہ ایسے الفاظ استعمال کرتا رہا جو ایک شریف انسان کو تہذیب کے لحاظ سے کرنے چاہئیں ہاں جیسا کہ مذہبی مباحثات میں باوجود تمام تر نیک نیتی اور نرمی اور تہذیب کے ایسی صورتیں پیش آجایا کرتی ہیں کہ ایک فریق اپنے فریق مخالف کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو عین محل پر چسپاں ہوتے ہیں۔اس مہذبانہ طریق سے میں انکار نہیں کر سکتا۔مباحثات میں ضرورت کے وقت بہت سے کلمات ایسے بھی استعمال ہوتے ہیں جو فریق مخالف کو طبعا ناگوار معلوم ہوتے ہیں مگر محل پر چسپاں اور واقعی ہوتے ہیں مثلاً جو شخص اپنے مباحثات میں عمد اخیانت کرتا ہے یا دانستہ روایتوں کے حوالہ میں جھوٹ بولتا ہے اس کو نیک نیتی اور اظہار حق کی وجہ سے کہنا پڑتا ہے کہ تم نے طریق خیانت یا جھوٹ کو اختیار کیا ہے اور ایسا بیان کرنانرمی اور تہذیب کے برخلاف نہیں ہوتا بلکہ اس حد تک جو سچائی اور نیک نیتی کا التزام کیا گیا ہو۔حق کے ظاہر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ایسے طریق کو یورپ کے ممتاز محققوں نے بھی جو طبعاً تہذیب اور نرمی کے اعلیٰ اصولوں کے پابند