حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 169 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 169

حیات احمد ۱۶۹ جلد پنجم حصہ اول سے بہتر اور کوئی معیار نہیں کہ اس سے پیشگوئی طلب کی جائے توریت میں خدا تعالیٰ نے سے ملہم کے لئے یہی نشانی قرار دی ہے۔پھر اگر اس معیار کی رو سے وہ سچا نہ نکلے تو جلد پکڑا جائے گا۔اور خدا اسے رسوا کرے گا لیکن اگر وہ روح القدس سے تائید یافتہ ہے اور خدا اس کے ساتھ ہے تو ایسے امتحان کے وقت اس کی عزت اسی طرح ظاہر ہوگی جیسا کہ دانیال نبی کی عزت بابل کی اسیری کے وقت ظاہر ہوئی تھی۔ایک برس سے کچھ زیادہ عرصہ گزرتا ہے کہ میں نے اس عہد کو چھاپ کر شائع کر دیا ہے کہ میں کسی کی موت وضرر وغیرہ کی نسبت ہرگز کوئی پیشگوئی شائع نہ کروں گا۔پس اگر یہ پیشگوئی جو اشتہار مباہلہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں ہے کسی کی موت یا اس قسم کی ذلت کے متعلق ہوتی تو میں ہرگز اس کو شائع نہ کرتا لیکن اس پیشگوئی کو کسی کی ایسی ذلت سے جو قانونی حد کے اندر آ سکتی ہے کچھ تعلق نہ تھا جیسا کہ میں نے اپنے اشتہار میں مثال کے طور پر اس کی نظیر صرفی اور نحوی غلطی لکھی ہے اور ظاہر ہے کہ اگر کسی مولوی کو اس طرح پر نادم کیا جاوے کہ اس کے کلام میں صرفی یا حوی غلطی ہے تو اس قسم کی ذلت سے جو اس کو پہنچے گی قانون کو کچھ علاقہ نہیں۔میرے اس الہام میں مثلی ذلّت کی شرط ایک ایسی شرط ہے کہ اس شرط کے بعد حکام کو پھر زیادہ غور کرنے کی حاجت نہیں۔میری نیک نیتی کو خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور جو شخص غور سے میری اس پیشگوئی کو پڑھے گا اور اس کی تشریحات کو دیکھے گا جو میں نے قبل از مقدمہ شائع کر دی ہیں تو اس کا کانشنس اور اس کی حق شناس روح میرے بے خطا ہونے پر ضرور گواہی دے گی۔میں عدالت کو اس بات کا ثبوت دیتا ہوں کہ میں نے یہ اشتہار مباہلہ ایک مدت تک وہ الفاظ سن کر جو دل کو پاش پاش کرتے ہیں لکھا تھا۔اور میرا اس تحریر سے ایک تو یہ ارادہ تھا کہ بدی کا بدی سے مقابلہ نہ کروں اور خدا تعالیٰ پر فیصلہ چھوڑوں اور دوسرے یہ بھی ارادہ تھا کہ اُن فتنہ انگیز تحریروں کے اشتعال دہ اثر سے جن کا اس ڈیفنس میں کچھ ذکر کر چکا ہوں اپنی جماعت کو بچالوں اور جوش اور اشتعال کو دبا دوں