حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 119
حیات احمد ۱۱۹ جلد پنجم حصہ اول اس اشتہار کے شایع کرنے کے بعد آپ منتظر رہے کہ مولوی محمد حسین اور اس کے رفقاء کار پر کیا اثر ہوتا ہے مگر ان لوگوں کے پاس بجز سب وشتم اور کوئی جواب نہ تھا وہ علمی مقابلہ میں ہار چکے تھے اور روحانی مقابلہ میں آنے کی انہیں جرأت کبھی ہوئی نہ تھی اسی سلسلہ میں آپ نے مخالفین کو اس فیصلہ کے لئے انتظار کرنے کی ہدایت کی مگر وہ کب صبر کر سکتے تھے ان کی دوکان کی رونق تو مخالفت میں اشتہار بازی سے تھی اور اب ان کے ہاتھ جعفر زٹلی جیسامنا د آ گیا چنانچہ ۲۰ نومبر ۱۸۹۸ء کواس نے ایک نہایت گندہ اشتہار شائع کیا۔جس میں اس پیشگوئی پر استہزا کیا گیا اور آتھم وغیرہ کی پیشگوئی کے متعلق اعتراض کیا اس پر حضرت نے ۳۰ / نومبر ۱۸۹۸ء کو حسب ذیل اشتہار شائع کیا جس میں ایک طرف اپنی جماعت کو صبر اور تقوی شعاری کی تعلیم دی۔اور آتھم وغیرہ کی پیشگوئی کی حقیقت کو واضح کیا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ مبادا دل آن فرومایه شاد که از بهر دنیا دهد دیں بیاد میں اپنی جماعت کے لئے خصوصاً یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ وہ اس اشتہار کے نتیجہ کے منتظر رہیں کہ جوا۲ رنومبر ۱۸۹۸ء کو بطور مباہلہ شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ اور اس کے دور فیقوں کی نسبت شائع کیا گیا ہے جس کی میعاد ۱۵ جنوری ۱۹۰۰ء میں ختم ہوگی۔اور میں اپنی جماعت کو چند لفظ بطور نصیحت کہتا ہوں کہ وہ طریق تقویٰ پر پنجہ مارکر یاوہ گوئی کے مقابلہ پر یاوہ گوئی نہ کریں اور گالیاں نہ دیں۔وہ بہت کچھ ٹھٹھا اور جنسی سنیں گے جیسا کہ وہ سن رہے ہیں مگر چاہیے کہ خاموش رہیں اور تقویٰ اور نیک نیتی کے ساتھ ل النحل : ١٢٩ کے ترجمہ۔خدا کرے اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہو، جس نے دنیا کی خاطر دین کو بربادکرلیا۔