حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 106
حیات احمد 1+7 جلد پنجم حصہ اول کے لئے ہمیشہ مقام ادب پر کھڑے تھے وہ مقام بدل گیا اور وہ ایک مخالف کے مقام پر کھڑے ہو گئے۔لاہور میں اپنے بعض احباب سے سخت شکایت کی کہ مجھ کو ذلیل کیا گیا۔حضرت اقدس نے کمال شفقت سے جو ان لوگوں کا خاصہ ہے ان کو تحریر سمجھانے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے ڈیڑھ دن میں آپ نے ضرورۃ الامام کو لکھا اور شائع کیا خودحضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ضرورۃ الا مام میں اس کتاب کی وجہ تصنیف بیان کی ہے آپ نے ستاری سے کام لے کر ان کے نام کا اظہار نہیں کیا مگر میں نے اوپر واقعات کو کسی قدر تفصیل سے ایک عینی شاہد کی حیثیت سے بیان کر دیا ہے حضرت اقدس کی وجہ تصنیف کو میں نے اس لئے بھی درج کرنا ضروری سمجھا کہ اس سے آپ کی سیرت پر روشنی پڑتی ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔ان تمام وجوہ سے میں امام الزمان ہوں اور خدا میری تائید میں ہے اور وہ میرے لئے ایک تیز تلوار کی طرح کھڑا ہے اور مجھے خبر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل پر کھڑا ہوگا وہ ذلیل اور شرمندہ کیا جائے۔دیکھو! میں نے وہ کم پہنچا دیا جو میرے ذمہ تھا اور یہ باتیں اپنی کتابوں میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں مگر جس واقعہ نے مجھے ان امور کے مکر رلکھنے کی تحریک کی وہ میرے ایک دوست کی اجتہادی غلطی ہے جس پر اطلاع پانے سے میں نے ایک نہایت دردناک دل کے ساتھ اس رسالہ کو لکھا ہے۔تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ ان دنوں میں یعنی ماہ ستمبر ۱۸۹۸ء میں جو مطابق جمادی الاول ۱۳۱۶ھ ہے۔ایک میرے دوست جن کو میں ایک بے شر انسان اور نیک بخت اور متقی اور پر ہیز گار جانتا ہوں اور ان کی نسبت ابتدا سے میرا بہت نیک گمان ہے وَاللهُ حسیبہ مگر بعض خیالات میں غلطی میں پڑا ہوا سمجھتا ہوں اور اس غلطی کے ضرر سے ان کی نسبت اندیشہ بھی رکھتا ہوں وہ تکالیف سفر اٹھا کر اور ایک اور میرے عزیز دوست کو ہمراہ لے کر قادیان میں میرے پاس پہنچے۔اور بہت سے الہامات اپنے مجھ کو سنائے۔پس اس سے مجھ کو بے حد خوشی ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے ان کو الہامات کا شرف بخشا ہے مگر