حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 99
حیات احمد ۹۹ جلد پنجم حصہ اوّل مرزا غلام احمد نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کی ذاتی آمدنی باغ زمین اور تعلقہ داری کی اس کے خرچ کے لئے کافی ہے اور اس کو کچھ ضرورت نہیں ہے کہ وہ مریدوں کا روپیہ ذاتی خرچ میں لاوے شہادت گواہان بھی مرزا غلام احمد کے بیان کی تائید کرتی ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ مریدان بطور خیرات پانچ مدات مذکورہ بالا کے لئے روپیہ مرزا غلام احمد کو بھیجتے ہیں اور انہی مدات میں خرچ ہوتا ہے۔مرزا غلام احمد کی اپنی ذاتی آمدنی سوائے آمدنی تعلقہ داری، زمین اور باغ کے اور نہیں ہے جو قابل ٹیکس ہو۔گواہان میں سے چھ گواہ گو معتبر اشخاص ہیں لیکن مرز اصاحب کے مرید ہیں اور اکثر مرزا غلام احمد کے پاس رہتے ہیں دیگر سات گواہ مختلف قسم کے دوکاندار ہیں جن کو مرزا صاحب سے کچھ تعلق نہیں ہے۔بالعموم یہ سب گواہان مرزا غلام احمد کے بیان کی تائید کرتے ہیں اور اس کی ذاتی آمدنی تعلقه داری زمین اور باغ کی اور کسی قسم کی نہیں بتلاتے۔میں نے موقع پر بھی خفیہ طور سے مرزا غلام احمد کی ذاتی آمدنی کی نسبت بعض اشخاص سے دریافت کیا لیکن اگر چہ بعض اشخاص سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد کی ذاتی آمدنی بہت ہے اور یہ قابل ٹیکس ہے لیکن کہیں سے کوئی بین ثبوت مرزا صاحب کی آمدنی کا نہ مل سکا، زبانی تذکرات پائے گئے کوئی شخص پورا پورا ثبوت نہ دے سکا۔میں نے موضع قادیان میں مدرسہ اور مہمان خانہ کا بھی ملاحظہ کیا مدرسہ ابھی ابتدائی حالت میں ہے اور اکثر یہ عمارت خام بنا ہوا ہے۔اور کچھ مریدوں کے لئے بھی گھر بنے ہوئے ہیں لیکن مہمان خانہ میں واقعی مہمان پائے گئے اور یہ بھی دیکھا گیا کہ جس قدر مرید اس روز قادیان میں موجود تھے انہوں نے مہمان خانہ سے کھانا کھایا۔کمترین کی رائے ناقص میں اگر مرزا غلام احمد کی ذاتی آمدنی صرف تعلقہ داری اور باغ کی قرار دی جائے جیسا کہ شہادت سے عیاں ہوا، اور جس قدر آمدنی مریدوں سے ہوتی ہے اس کو خیرات کا روپیہ قرار دیا جائے جیسا کہ گواہان نے بالعموم بیان کیا تو مرزا غلام احمد پر موجودہ انکم ٹیکس بحال نہیں رہ سکتا۔لیکن جبکہ دوسری طرف یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد ایک معزز اور بھاری خاندان سے ہے اور اس کے آباؤ اجدا در رئیس رہے ہیں اور ان کی آمدنی