حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 98
حیات احمد ۹۸ جلد پنجم حصہ اوّل دوم مطبع اس میں مذہبی کتابیں اور اشتہارات چھاپے جاتے ہیں اور بعض دفعہ لوگوں میں مفت تقسیم ہوتے ہیں۔سوم مدرسہ مرزا غلام احمد کے مریدوں کی طرف سے ایک مدرسہ قائم کیا گیا ہے لیکن اس کی ابھی ابتدائی حالت ہے اس کا اہتمام مولوی نورالدین کے سپرد ہے جو مرزا غلام احمد کا ایک مرید خاص ہے۔چہارم سالانہ اور دیگر جلسہ جات اس گروہ کے سالانہ جلسے بھی ہوتے ہیں اور ان جلسوں کے سرانجام دینے کے لئے چندہ فراہم کیا جاتا ہے۔پنجم خط و کتابت۔حسب بیان تحریری مختار مرزا غلام احمد اور شہادت گواہان اس میں بہت سا روپیہ خرچ ہوتا ہے مذہبی تحقیقات کے متعلق جس قدر خط و کتابت ہوتی ہے اس کے لئے مریدوں سے چندہ لیا جاتا ہے۔الغرض حسب بیان گواہان ان پانچ مد وں میں چندہ کا روپیہ خرچ ہوتا ہے اور ان ذرائع سے مرزا غلام احمد مع اپنے مریدوں کے اپنے خیالات مذہبی کی اشاعت کرتا ہے۔یہ سوسائٹی ایک مذہبی گروہ ہے اور چونکہ حضور کو اس گروہ کی نسبت پیشتر سے علم ہے اس لئے اسی مختصر خاکہ پر اکتفا کی جاتی ہے۔اور اب اصل درخواست عذرداری کے متعلق گزارش کی جاتی ہے۔مرزا غلام احمد پر امسال ۷۲۰۰ روپیہ اس کی سالانہ آمدنی قرار دے کر (بار) ۱۶۷ روپے آٹھ آنے ٹیکس قرار دیا گیا اس کی عذرداری پر اس کا اپنا بیان خاص موضع قادیان میں جب کہ کم ترین بتقریب دورہ اس طرف گیا اور تیراں کس گواہان کی شہادت قلمبند کی گئی ہے مرزا غلام احمد نے اپنے بیان حلفی میں لکھوایا کہ اس کو تعلقہ داری زمین اور باغ کی آمدنی ہے۔تعلقہ داری کی سالانہ تخمینا ریه امر ) بیاسی روپے ارآنہ کی، زمین کی تخمیناً تین سو روپیہ سالانہ کی اور باغ کی تخمینا سالانہ دوسو تین سو چار سو اور حد درجہ پانچ سوروپیہ کی آمدنی ہوتی ہے اس کے علاوہ اس کو کسی قسم کی اور آمدنی نہیں ہے۔مرزا غلام احمد نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کو تخمیناً پانچ ہزار دوسور و پیہ سالانہ مریدوں سے اس سال پہنچا ہے ورنہ اوسط سالانہ آمدنی قریباً چار ہزار روپیہ کے ہوتی ہے وہ پانچ مدوں میں جن کا ذکر او پر ہوا ہے خرچ ہوتی ہے اور اس کے ذاتی خرچ میں نہیں آتی خرچ اور آمدنی کا حساب با ضابطہ کوئی نہیں ہے صرف یادداشت سے تخمیناً لکھوایا ہے۔