حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 58 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 58

حیات احمد ۵۸ جلد چهارم روپیہ حضرت اقدس اس مقصد کے لئے جمع کرا دیں کہ اگر وہ عذاب الہی سے بچ گیا تو وہ رقم اس کو مل جاوے اس نے خیال یہ کیا تھا کہ حضرت اس شرط کو خلاف معاہدہ ہونے کی وجہ سے یا گراں قدر ہونے کی وجہ سے قبول نہ کریں گے مگر حضرت نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا اور دروغ را تا بخانه اش باید رسید پر عمل کر کے اسے منظور کر لیا چنانچہ اس پر حضرت اقدس نے ۱۵ اپریل ۱۸۹۷ء کو ایک فیصلہ کن اعلان شائع کیا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ لاله گنگا بشن صاحب کی مرنے کے لئے درخواست ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں جس میں آریہ صاحبوں کے خیالات لیکھرام کی موت کی نسبت لکھے گئے تھے دوسرے صفحہ کے دوسرے کالم میں لکھا تھا کہ اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہوسکتا اور میری نسبت یقین رکھتا ہے کہ گویا میں سازش قتل میں شریک ہوں تو ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک ہے اور اگر شریک نہیں تو ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل ہو جو ہیبت ناک ہو۔مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو۔اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس تک ایسے عذاب سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں گا اور اس سزا کے لائق جو ایک قاتل کو ہونی چاہیے۔اس اشتہار کے بعد ایک صاحب گنگا بشن نام نے اخبار سماچار مطبوعہ ۳ اپریل ۱۸۹۷ء کے ذریعہ سے قسم کھانے کے لیے اپنے تئیں مستعد ظاہر کیا اور صاف طور پر اقرار کر دیا کہ حسب منشاء اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں قسم کھانے کے لئے طیار ہوں بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ میری قسم سے آئندہ کوئی آپ کے سامنے کھڑا نہیں ہوگا۔یعنی تمام مخالف قو میں لا جواب ہو جائیں گی۔مگر اپنی طرف سے یہ زائد شرط