حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 57
حیات احمد جلد چهارم ہیں۔کیونکہ میں ان کو اطلاع دیتا ہوں کہ میں اُن کے اس الزام کے دفع کے لئے کسی قانونی ذریعہ سے چارہ جوئی پسند نہیں کرتا۔اور نہ کروں گا۔میں خدا کے فیصلہ میں خلقت کی عام بھلائی دیکھتا ہوں۔اور جو انہوں نے آخری شرط پیش کی ہے کہ میں قادیان میں قتل نہ کیا جاؤں اُس کا بفضلہ تعالیٰ میں خود ذمہ وار ہوں۔وہ حسب نمونہ اقرار شائع کرنے کے بعد جب دو ماہ کے عرصہ تک اطلاع پاویں کہ روپیہ جمع ہو گیا ہے تو بلا توقف پورے اطمینان کے ساتھ قسم کھانے کے لئے قادیان میں آجائیں۔ہمیں ہر ایک قوم سے ہمدردی ہے۔کسی کی مجال نہیں جو آپ کو آزار پہنچا سکے۔یہ یاد رہے کہ چونکہ روپیہ جمع کرنا کسی قدر مہلت چاہتا ہے اس لئے میں نے زیادہ سے زیادہ دو ماہ کی شرط لگادی ہے۔امید ہے کہ آپ اپنی بچی نیک نیتی سے اس مہلت کو غیر موزوں نہیں سمجھیں گے۔اور بالآخر یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ اس اخبار میں لالہ گنگا بشن نے اپنا پتہ پورا نہیں لکھا لیکن دوسری دفعہ کی اشاعت میں جب وہ اقرار اپنا شائع کریں گے اس میں پورا پورا پتہ اپنا لکھنا ضروری ہوگا۔یعنی یہ کہ اپنا نام اور اپنے باپ کا نام قومیت سکونت محلہ ضلع اور پیشہ وغیرہ۔المشتہر خاکسار غلام احمد قادیانی ۱٫۵ اپریل ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۷۵ تا ۷۹۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۷۴ تا ۶ سے طبع بار دوم ) گنگا بشن کے حیلے گریز کے لئے جب یہ اعلان شائع ہو گیا تو گنگا بشن صاحب گریز کے پہلو اختیار کرنے لگے۔اگر چہ خود اس شخص کی ایسی پوزیشن نہ تھی کہ اس کا مطالبہ منظور کر لیا جا تا نگر احقاق حق کی خاطر حضرت نے منظور کر کے اعلان کر دیا اس کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ گنگا بشن صاحب فوراً اعلان کر دیتے۔مگر بجائے اس کے نئی شرائط پیش کرنی شروع کر دیں۔چنانچہ اس نے اس شرط کا اضافہ کیا کہ دس ہزار