حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 583 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 583

حیات احمد ۵۸۳ جلد چهارم دل خوں ہیں غم کے مارے کشتی لگا کنارے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے تجھ سے میں ہوں منور میرا تو تو قمر ہے تجھ پر میرا توکل در پر تیرے یہ سر ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي جب تجھ سے دل لگایا سوسو ہے غم اٹھایا تن خاک میں ملایا جاں پر وبال آیا پر شکر اے خدایا جاں کھو کے تجھ کو پایا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي دیکھا ہے تیرا منہ جب چپکا ہے ہم پہ کوکب مقصود مل گیا سب ہے جام اب لبالب تیرے کرم سے یارب میرا بر آیا مطلب یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي احباب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے یہ دن چڑھا مبارک مقصود جسمیں پائے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑیگا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اے دوستو پیارو عقبی کو مت بسارو کچھ زادِ راہ لے لو کچھ کام میں گزارو دنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اتارو یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي جی مت لگاؤ اس سے دل کو چھڑاؤ اس سے رغبت ہٹاؤ اس سے بس دور جاؤ اس سے یارو یہ اثر رہا ہے جاں کو بچاؤ اس سے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي قرآں کتاب رحماں سکھائے راہِ عرفاں جوا سکے پڑھنے والے ان پر خدا کے فیضاں ان پر خدا کی رحمت جواس پہ لائے ایماں یہ روز ہے مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ہے چشمہ ہدایت جس کو ہو یہ عنایت یہ ہیں خدا کی باتیں ان سے ملے ولایت