حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 575
حیات احمد جلد چهارم نفرت ہوگئی اور چادر کو نہایت غصہ سے کھینچ لیا اور سخت لہجہ میں کہا کہ پادریوں کی مدد کر کے میری چادر کو پلید نہ کرو۔اسی قسم کے الفاظ تھے اور مولوی محمد حسین بُرا سامنہ بنا کر اور اپنا سا منہ لے کر دامن سنبھالتے ہوئے نکل گئے۔اور عام طور پر اس دن لوگ سردار کا ہن کے آوازے بھی کستے تھے گویا حقیقی معنوں میں پیشگوئی پوری ہوگئی جس کا اوپر ذکر کر آیا ہوں۔کیپٹن ڈگلس جواب میجر ہیں اور اب تک زندہ ہیں وہ بڑے ذوق سے اس مقدمہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔میں جب ۳۵ ۱۹۳۷ء میں ان سے ملا تو دیر تک ان واقعات کو اور اپنے تاثرات کو دہراتے رہے اور سلسلہ کی تاریخ نے ان کو ایک زندگی بخش دی۔بقیہ حاشیہ کی حالت پر رحم کر کے اس کی پردہ پوشی بھی چاہے مگر میں خوب جانتا ہوں کہ کوئی شخص اس بات پر قسم نہیں کھا سکے گا کہ یہ واقعہ کرسی نہ ملنے اور جھڑ کیاں دینے کا جھوٹ ہے مجھے حیرت پر حیرت آتی ہے کہ اس شخص کو کیا ہو گیا اور اس قدر گندے جھوٹ پر کیوں کمر بستہ کی۔ذرہ شرم نہیں کی کہ اس واقعہ کے تو صد ہا آدمی گواہ ہیں وہ کیا کہیں گے۔اس طرح تو آئندہ مولویوں کا اعتبار اٹھ جائے گا۔اگر در حقیقت اس شیخ بٹالوی کو کرسی ملی تھی اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے بڑے اکرام اور اعزاز سے اپنے پاس ان کو کرسی پر بٹھا لیا تھا تو پتہ دینا چاہیے کہ وہ کرسی کہاں بچھائی گئی تھی شیخ مذکور کو معلوم ہوگا کہ میری کرسی صاحب ڈپٹی کمشنر کے بائیں طرف تھی۔اور دائیں طرف صاحب ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ کی کرسی تھی اور اسی طرف ایک کرسی پر ڈاکٹر کلارک تھا۔اب دکھلانا چاہیے کہ کون سی جگہ تھی جس میں شیخ محمد حسین بٹالوی کے لئے کرسی بچھائی گئی تھی۔سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔اس شخص نے میری ذلت چاہی تھی اور اسی جوش میں پادریوں کا ساتھ دیا۔خدا نے اس کو عین عدالت میں ذلیل کیا۔یہ حق کی مخالفت کا نتیجہ ہے اور یہ راستباز کی عداوت کا ثمرہ ہے۔اگر اس بیان میں نعوذ باللہ میں نے جھوٹ بولا ہے تو طریق تصفیہ دو ہیں۔اول یہ کہ شیخ مذکور ہر ایک صاحب سے جو ذکر کئے گئے ہیں حلفی رقعہ طلب کرے جس میں قسم کھا کر میرے بیان کا انکار کیا ہو۔اور جب ایسے حلفی رقعے جمع ہو جائیں تو ایک جلسہ بمقام بٹالہ کر کے مجھ کو طلب کرے میں شوق سے ایسے جلسہ میں حاضر ہو جاؤں گا۔میں ایسے شخص کے رقعہ کو دیکھنا چاہتا ہوں جس نے حلفاً اپنے رقعہ میں یہ بیان کیا ہو کہ محمد حسین نے کرسی نہیں مانگی اور نہ اُس کو کوئی جھڑ کی ملی بلکہ عزت کے ساتھ کرسی پر بٹھایا گیا۔شیخ مذکور کو خوب یاد رہے کہ کوئی شخص اس کے لئے اپنا ایمان ضائع نہیں کرے گا۔اور ہرگز ہرگز ممکن نہ ہوگا کہ کوئی شخص اشخاص مذکورین میں اس کے دعوئی باطل کی تائید میں قسم کھاوے۔واقعات صحیح کو چھپانا بے ایمانوں کا کام ہے پھر کیونکر کوئی معزز شیخ بٹالوی کے لئے مرتکب اس گناہ کا ہوگا۔اور اگر