حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 557
حیات احمد جلد چهارم مقدمہ میں انصاف کے مقام کو بہت بلند کر دیا۔اُن کے کارناموں کا ذکر آگے آئے گا۔۱۰ راگست کی پیشی چونکہ مقدمہ ۱۰ راگست کی صبح کو پیش ہونے والا تھا۔کپورتھلہ۔لودھا نہ۔امرت سر۔لاہور۔سیالکوٹ وغیرہ سے اکثر احباب ۹ / اگست کی رات ہی کو آگئے تھے۔اور تھانہ کے بالمقابل منڈی میں انہوں نے قیام فرمایا۔حضرت اقدس ۱۰ اگست کی صبح کے ۸ اور ۹ بجے کے درمیان قادیان سے تشریف لائے اور خدام نے جو رات کو آچکے تھے انار کلی کے نکڑ پر آپ کا استقبال کیا آپ جماعت کو دیکھ کر دور ہی سے اتر آئے نہایت ہشاش بشاش خراماں خراماں آکر جماعت کے افراد سے مصافحہ کیا آپ کے چہرہ پر قسم کھیل رہا تھا۔گویا کسی قسم کی فکر نہیں اور آپ تفریحاً آئے ہیں اور وہاں سے پیدل ہی چلے آئے خدام نے سوار ہونے کے لئے عرض کیا تو فرمایا اب تک سوار ہی آئے ہیں اب سب کے ساتھ پیدل چلیں گے اور سب کے ساتھ سیر ہو جائے گی۔راستہ میں مقدمہ کا سرسری ذکر آیا تو فرمایا۔” ہم کو تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے خبر دے دی تھی اور ہم تو اس تائید اور نصرت کا انتظار ہی کر رہے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کے آغاز پر ہم خوش ہیں۔اور اس کے انجام بخیر ہونے پر یقین رکھتے ہیں ہمارے دوستوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔“ ذکر آیا کہ عیسائیوں کے ساتھ آریہ بھی مل گئے ہیں اور مولوی محمد حسین بھی ان کے ساتھ ہے۔فرمایا ”ہمارے ساتھ خدا ہے جو ان کے ساتھ نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلہ سے ہم کو واقف کر دیا ہے اور ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ وہی ہو گا اگر ساری دنیا بھی اس مقدمہ میں ہمارے خلاف ہو تو مجھے ایک ذرہ کے برابر پرواہ نہیں اور اللہ تعالیٰ کی بشارت کے بعد اس کا وہم بھی کرنا میں گناہ سمجھتا ہوں۔“ جماعت نے حضرت اقدس کا استقبال اس مقام پر کیا تھا۔جہاں قادیان کی سڑک سری گوبند پور جانے والی سڑک سے جدا ہوتی ہے اور یہ وہی مقام ہے جہاں مولوی محمد حسین