حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 556
حیات احمد جلد چهارم سے مزید تصدیق کے لئے خبریں منگوائی گئیں اور اس سلسلہ میں سیکھواں برادرز اور حضرت منشی عبدالعزیز صاحب کے برادر عزیز حضرت منشی عبدالمجید کی خدمات قابل قدر ہیں وہاں سے اطلاع آتی رہی کہ کوئی وارنٹ نہیں آیا ادھر ڈپٹی کمشنر امرت سر پر حقیقت کھلی کہ اس نے خلاف قانون حکم دیا ہے چنانچہ اس نے ۷ اگست ۱۸۹۳ء کو بذریعہ تار اطلاع دی کہ جو وارنٹ میں نے مرزا غلام احمد (علیہ السلام) کی گرفتاری کا بھیجا ہے اسے روک لو ڈ پٹی کمشنر گورداسپور جس کا نام کیپٹن ڈگلس تھا حیران ہوا اور اس نے اپنے ریڈر مرحوم راجہ غلام حیدر خاں صاحب سے دریافت کیا آپ نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ ایسا وارنٹ آیا ہی نہیں۔یہ عجائبات قدرت اور تصرفات الہیہ ہیں۔یکم اگست ۱۸۹۷ء سے ۷/اگست تک معلوم نہ ہوا کہ وہ وارنٹ کہاں گیا اور نہ کبھی معلوم ہوسکا۔اجرائے وارنٹ کی خبر نے دشمنوں کے دلوں میں مسرت کی لہر پیدا کر دی تھی اور اس کی گمشدگی نے ان کے گھر ماتم پیدا کر دیا بہر حال وارنٹ کے اجرا کی مثل اس کی منسوخی کے بعد ۷ اگست ۱۸۹۷ء کو ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے اجلاس پر منتقل کر دی گئی۔گورداسپور میں مقد مہ منتقل ہوا غرض ۷ اگست ۱۸۹۷ء کو یہ مقدمہ گورداسپور منتقل کیا گیا اور ۹ راگست ۱۸۹۷ء کو کپتان ڈبلیو۔ڈگلس اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کے سامنے مثل پیش ہوئی کپتان ڈگلس نے (جو اس مشہور مقدمہ میں فیصلہ کرنے کی وجہ سے اپنے زمانہ کا پیلاطوس مشہور ہوا) اسی روز حضرت اقدس کے نام سمن جاری کیا کہ ۱۰ اگست ۱۸۹۷ء کو بمقام بٹالہ حاضر ہوکر وجہ بیان کرو۔کہ کیوں ایک ہزار کا مچلکہ اور ایک ہزار کی ضمانت ایک سال کے لئے باقرار حفظ امن نہ لی جاوے۔مسٹر مارٹینو نے بیس ہزار کا مچلکہ اور بیس ہزار کی ضمانت طلب کی اور وارنٹ جاری کیا۔اور کپتان ڈگلس کا یہ طرز عمل تھا۔کیپٹن ڈگلس نے جو الحمد للہ آج تک زندہ ہیں اور میجر ہیں۔اس