حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 555 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 555

حیات احمد مقدمہ کی ابتدا ۵۵۵ جلد چهارم جب عبد الرحیم وغیرہ پادریوں نے سازش کو مکمل کر لیا اور عبدالحمید سے تحریر لے لی تو اس کا شکریہ ادا کیا گیا اور کہا گیا کہ ہماری مراد پوری ہو گئی۔جس کو اللہ تعالیٰ نے نامرادی سے بدل دیا۔اس سازش کے کرتا دھرتا عبدالرحیم۔پریمد اس۔اور وارث دین تھے انہوں نے اپنی کارگزاری سے کلارک کو آگاہ کیا اور اس نے جھٹ ڈپٹی کمشنر امرت سر کو درخواست دے دی اس وقت ڈپٹی کمشنر مسٹر مارٹینو تھا اس نے ڈاکٹر کلارک اور عبد الحمید کا بیان لے کر حفظ امن کی ضمانت کے لئے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا اور ۲۰ ہزار کا مچلکہ اور ۲۰ ہزار کی دو ضمانتیں طلب کیں یہ یکم اگست ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے۔مقدمہ کا علم کیونکر ہوا ڈپٹی کمشنر امرت سر کے سپرنٹنڈنٹ ضلع میر جیون علی تھے وہ ایک شریف الطبع اپنے طرز پر دیندار مسلمان تھے اور مولوی عبد الجبار صاحب کے درس قرآن میں شریک ہوتے تھے وہاں انہوں نے مکرم بابو محکم الدین سے ذکر کیا کہ مرزا صاحب کے نام وارنٹ جاری ہو گیا۔“ وہ بھاگے بھاگے میرے پاس آئے کہ غضب ہو گیا مرزا صاحب کے نام وارنٹ جاری ہو گیا جس طرح ممکن ہو اطلاع کر دو۔میں نے تفصیل پوچھی تو کہا کہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔اتفاق سے حضرت حافظ احمد اللہ خاں صاحب قادیان سے آئے ہوئے تھے۔اور وہ واپس جارہے تھے ان کو اطلاع دی تفصیلات کا مطالبہ انہوں نے بھی کیا میں نے کہا جرگہ غزنویوں کے درس میں ایک صاحب نے جو ضلع کے سپرنٹنڈنٹ ہیں ذکر کیا ہے۔ان کے ذریعہ قادیان اطلاع پہنچی اس کا اثر حضرت اقدس اور جماعت پر کیا ہونا تھا حضرت نے جو فرمایا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ابتلاء کی خبر پہلے سے دی ہوئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی نشانات کا مجموعہ ہے اور انجام کی بشارت تو بریت ہی ہے۔وارنٹ جاری ہو گیا مگر معلوم نہیں اسے کیا ہوگیا وہ گورداسپور نہیں پہنچا گورداسپور