حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 554
حیات احمد ۵۵۴ جلد چهارم ذلت اور اہانت اور ملامت خلق۔اور پھرا خیر حکم ) ابراء یعنی بے قصور ٹھہرانا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا۔وَفِيهِ شَيْءٌ یعنی بریت تو ہو گی مگر اس میں کچھ چیز ہوگی ( یہ اس نوٹس کی طرف اشارہ تھا جو بری کرنے کے بعد لکھا گیا تھا کہ طرز مباحثہ نرم چاہیے ) پھر ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ۔بَلجَتْ آيَاتِی کہ میرے نشان روشن ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوجائیں گے۔(چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس مقدمہ میں جو ستمبر ۱۸۹۹ء میں عدالت مسٹر جے آر ڈریمنڈ صاحب بہادر میں فیصلہ ہوا عبدالحمید ملزم نے دوبارہ اقرار کیا کہ میرا پہلا بیان جھوٹا تھا )۔اور پھر الہام ہوا۔لِوَآءُ فَتح یعنی فتح کا جھنڈا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا۔إِنَّمَا أَمْرُنَا إِذَا أَرَدْنَا شَيْئًا - اَنْ نَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ یعنی ہمارے امور کے لئے ہمارا ایسا ہی قانون ہے کہ جب ہم کسی چیز کا ہو جانا چاہتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۴۱ تا ۳۴۳- تذکره صفحه ۴ ۲۵ تا ۷ ۲۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ان مبشرات اور الہامات کی تفصیل عملاً اور واقعتاً اس دوسرے جنگ مقدس میں ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی اس وحی کے مطابق جو ابر آؤ کے لفظ میں ہوئی اس کتاب کا نام کتاب البریہ رکھا گیا جو شائع شدہ ہے اور ایمان کی بالیدگی اور قوت کے لئے اپنے اندر ایک خاص اثر رکھتی ہے اس کتاب کے ذریعہ علمی رنگ میں بھی کسر صلیب کیا گیا ہے۔راقم الحروف اس مقدمہ کے آغاز سے انجام تک کا عینی گواہ ہی نہیں بلکہ اشاعت کنندہ بھی ہے اور یہی مقدمہ احکام کے اجراء کا زبردست محرک ہوا۔مقدمہ کے حالات تفصیلاً کتاب البریہ میں ہیں مگر میں بعض متعلقہ واقعات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔